موجودہ حالات میں اختلاف اور سخت بیانات سے کوئی فائدہ نہیں، اجتماعی دانش اور اعلیٰ قیادت کے فیصلوں پر اعتماد ضروری ہے
امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، بانی اسلامی جمہوری ایران امام خمینی کے پوتے آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اختلافات، تنازعات اور سخت بیانات سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ قومی یکجہتی، اجتماعی دانش اور اعلیٰ سطحی ریاستی فیصلوں پر اعتماد ہی ملک کو کامیابی کی جانب لے جا سکتا ہے۔
وزارتِ راہ و شہری ترقی کے وزیر اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران سید حسن خمینی نے حالیہ بحران اور جنگی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے مشکل حالات کے باوجود اتحاد، ہم آہنگی اور قومی غیرت کا شاندار مظاہرہ کیا اور سرخرو ہو کر سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ ایک عظیم قومی سانحے اور شہید رہبر کی جدائی کے باوجود ایران مضبوطی سے کھڑا رہا۔ ان کے مطابق اس استحکام کے پیچھے تین بنیادی عوامل کارفرما تھے: نظریاتی ڈھانچہ، تہذیبی و تمدنی بنیادیں اور ملک کا مضبوط انتظامی نظام۔
سید حسن خمینی نے ایران کے انتظامی ڈھانچے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 120 سالہ ریاستی نظام نے ثابت کیا کہ وہ کسی ایک فرد کا محتاج نہیں بلکہ ایک مضبوط اور منظم ادارہ جاتی نظام رکھتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی بلدیاتی اور عوامی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں، جو ریاستی اداروں کی پختگی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے وزارتِ راہ و شہری ترقی، فضائی صنعت، سڑکوں کے ذریعے نقل و حمل کے شعبے اور دیگر سرکاری و نجی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کے دوران ان شعبوں نے ذمہ داری اور عزم کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھیں۔
اپنی تقریر کے اہم حصے میں سید حسن خمینی نے زور دیا کہ تمام افراد کو اپنی مشاورتی آراء پیش کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن جب ریاستی سطح پر کوئی حتمی فیصلہ کر لیا جائے تو اس کی پابندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران قوم نے اعتماد کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور امن کے دور میں بھی اسی اعتماد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف اور انتشار یقینی طور پر ناکامی کا باعث بنتے ہیں، جبکہ اتحاد اور باہمی تعاون قومی کامیابیوں کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔ ان کے مطابق ایران اب تک اہم کامیابیاں حاصل کر چکا ہے اور قومی وقار، اقتدار اور بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت ہے۔
سید حسن خمینی نے صدرِ مملکت اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک کے اعلیٰ ذمہ داران قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، لہٰذا عوام کو ان فیصلوں پر اعتماد کرنا چاہیے کیونکہ یہ تمام اقدامات اعلیٰ قیادت کی نگرانی اور تائید کے ساتھ انجام پاتے ہیں۔