غدیرِ خم تاریخِ اسلام کا وہ عظیم اور فیصلہ کن موڑ ہے جس نے امتِ مسلمہ کے لیے قیادت، ولایت اور الٰہی حاکمیت کے اصول کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔ 18 ذی الحجہ 10 ہجری کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدانِ غدیر میں لاکھوں مسلمانوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور امت کا ولی و سرپرست مقرر فرمایا۔ یہ واقعہ محض ایک تاریخی اعلان نہیں تھا بلکہ اسلام کے سیاسی، اجتماعی اور روحانی نظام کا بنیادی ستون تھا۔ غدیر درحقیقت اس حقیقت کا نام ہے کہ امت کی قیادت کا معیار نسب، طاقت یا اکثریت نہیں بلکہ خداوند متعال کا انتخاب اور الٰہی اہلیت ہے۔
امام خمینیؒ نے غدیر کو صرف ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے اسلام کی حیاتِ اجتماعی اور اسلامی حکومت کے بنیادی منشور کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک غدیر کا پیغام یہ تھا کہ معاشرے کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیئے جو علم، تقویٰ، عدالت اور الٰہی بصیرت کے حامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی غدیر کے اسی پیغام کو زندہ کرنے اور امت کو اس کی حقیقی روح سے آشنا کرنے کے لیے وقف کر دی۔
امام خمینیؒ فرماتے تھے کہ غدیر صرف حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان نہیں بلکہ عدلِ الٰہی کے نفاذ اور اسلامی حکومت کے قیام کا اعلان بھی ہے۔ اگر غدیر کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھ لیا جاتا تو امتِ مسلمہ صدیوں تک سیاسی انتشار، ظلم و استبداد اور فکری انحراف کا شکار نہ ہوتی۔ ان کے نزدیک غدیر کا اصل مقصد دین اور سیاست کی جدائی کو ختم کرنا اور ایک ایسے نظام کا قیام تھا جو خدا کے قوانین کے مطابق انسانوں کی رہنمائی کرے۔
امام خمینیؒ نے نظریۂ ولایتِ فقیہ کو بھی غدیر کے تسلسل کے طور پر پیش کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ جس طرح رسول خدا ﷺ نے امت کو قیادت کے بغیر نہیں چھوڑا اور حضرت علیؑ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، اسی طرح دورِ غیبت میں بھی اسلامی معاشرہ الٰہی قیادت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا ایسے عادل، باصلاحیت اور دین شناس فقیہ کی قیادت ضروری ہے جو اسلامی احکام کے نفاذ اور امت کے اجتماعی امور کی نگرانی کر سکے۔ اس اعتبار سے اسلامی انقلابِ ایران کو امام خمینیؒ غدیر کے پیغام کی ایک عملی تجسیم قرار دیتے تھے۔
امام خمینیؒ کی نظر میں غدیر کا ایک اہم پہلو ظلم کے خلاف قیام اور مستضعفین کی حمایت بھی تھا۔ حضرت علیؑ کی پوری زندگی عدل و انصاف، حق گوئی اور مظلوموں کی حمایت سے عبارت ہے۔ امام خمینیؒ نے بھی عالمی استکبار، سامراج اور ظالم قوتوں کے خلاف اسی علوی روش کو اپنایا۔ انہوں نے بارہا فرمایا کہ اسلام مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کی مخالفت کا دین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین، لبنان اور دنیا بھر کے محروم و مظلوم عوام کی حمایت کو انہوں نے اسلامی فریضہ قرار دیا۔
غدیر کا پیغام امت کے اتحاد اور بیداری کا پیغام بھی ہے۔ امام خمینیؒ نے ہمیشہ مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنے اور اسلام کے مشترکہ اصولوں پر متحد ہونے کی دعوت دی۔ ان کا موقف تھا کہ غدیر کا حقیقی مقصد امت کو تفرقے میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ حق و عدل کی بنیاد پر ایک ایسی قیادت فراہم کرنا ہے جو مسلمانوں کی عزت و عظمت کا سبب بنے۔
آج جب دنیا ایک بار پھر ظلم، استکبار اور فکری انتشار کا شکار ہے، غدیر کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امام خمینیؒ کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غدیر فقط جشن منانے کا نام نہیں بلکہ ایک عہد اور ذمہ داری کا نام ہے۔ یہ عہد عدل کے قیام، ظلم کے خاتمے، دین کے احیاء اور الٰہی قیادت کی پیروی کا عہد ہے۔ اگر امتِ مسلمہ غدیر کے حقیقی پیغام کو سمجھ لے اور اسے اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرے تو وہ دوبارہ عزت، استقلال اور سربلندی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
غدیر اور امام خمینیؒ کا تعلق دراصل فکر اور عمل کا تعلق ہے۔ غدیر نے جس ولایت کا اعلان کیا، امام خمینیؒ نے اسی ولایت کے پیغام کو اپنے کردار، جدوجہد اور انقلاب کے ذریعے زندہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کو غدیر کے پیغام کی عملی تفسیر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ غدیر کا چراغ چودہ صدیاں قبل روشن ہوا تھا، اور امام خمینیؒ نے اس کی روشنی کو عصرِ حاضر میں ایک بار پھر پوری دنیا تک پہنچا دیا۔