آیت اللہ سید حسن خمینی: حالیہ جنگ کو خطے کی اہم ترین تاریخی تبدیلیوں میں شمار کیا جائے گا
جماران کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی رہ کے پوتے آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کو مستقبل میں خطے کی اہم ترین تاریخی تبدیلیوں میں شمار کیا جائے گا، کیونکہ اس نے پورے خطے میں ایک بڑے “پیرادائم شفٹ” کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے امدادی کارکنوں اور رضاکاروں سے خطاب میں کہا کہ اس جنگ کے دوران ایران نے سخت حالات کا سامنا کیا، تاہم اس کے باوجود عوامی استقامت اور اداروں کی کارکردگی نمایاں رہی۔
ان کے مطابق اس جنگ کے دوران ہونے والے واقعات میں انسانی جانوں کا نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان ایک افسوسناک حقیقت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوامی مزاحمت اور استقامت نے بھی ایک نئی صورتحال پیدا کی ہے۔
سید حسن خمینی نے کہا کہ اس مرحلے تک حاصل ہونے والی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: استقامت اور قومی سطح پر اتحاد۔
انہوں نے زور دیا کہ عوام کو ریاستی فیصلوں پر اعتماد کرنا چاہیے، کیونکہ فیصلہ سازی کے عمل میں تجربہ کار اور ذمہ دار افراد شامل ہیں جو برسوں سے ان حالات کا حصہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، لیکن قومی سطح پر فیصلوں کے بعد اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اہم فیصلے منظم طریقہ کار کے تحت انجام پاتے ہیں اور ان کی حتمی منظوری بھی انہی کی جانب سے دی جاتی ہے۔
سید حسن خمینی نے کہا کہ “کسی کو زیادہ جذباتی یا حد سے زیادہ محتاط بننے کی ضرورت نہیں”، بلکہ ذمہ دارانہ انداز میں اجتماعی فیصلوں پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے امدادی اداروں اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ان اداروں کی کارکردگی قابلِ ستائش رہی ہے اور مستقبل کے لیے امید افزا ہے۔