آج ہر وہ آواز جو قوم کی صفوں میں تفرقہ پیدا کرے دشمن کی آواز ہے:ڈاکٹر علمی کمساری

آج ہر وہ آواز جو قوم کی صفوں میں تفرقہ پیدا کرے دشمن کی آواز ہے:ڈاکٹر علمی کمساری

 مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینیؒ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی کمساری نے ادارے کے مدیران اور ملازمین سے ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر، حالیہ مشکلات اور جنگی حالات کے باوجود، ادارے کی پالیسیوں اور آئندہ پروگراموں پر غور و خوض کا موقع میسر آیا، جس پر وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کمساری نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ گزشتہ سال ایران کے لیے گزشتہ تین دہائیوں کے سب سے حساس اور بحرانی ادوار میں سے ایک رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انقلاب اسلامی کے ابتدائی برسوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت روزانہ کی بنیاد پر نہایت سنگین اور بڑے واقعات پیش آتے تھے، جن کی شدت حالیہ حالات سے بھی زیادہ تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کو ابتدا ہی سے دشمنی، سازشوں اور بیرونی دباؤ کا سامنا رہا۔ انقلاب کے فوراً بعد ایران پر جنگ مسلط کی گئی، جبکہ اس سے پہلے بھی سرحدی حملے، علیحدگی پسند تحریکیں اور اندرونی بدامنی موجود تھی۔ بعد ازاں دہشت گرد تنظیموں نے بھی ملک کے اندر متعدد حملے کیے۔

انہوں نے حالیہ عرصے میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک مختصر جنگ، سڑکوں پر بدامنی اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دشمن اب بھی مختلف طریقوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر کمساری نے کہا کہ انقلاب کے ابتدائی دور میں بڑے پیمانے پر شہادتیں ہوئیں، جن میں اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی شامل تھیں۔ انہوں نے 7 تیر کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 72 اعلیٰ عہدیداران شہید ہوئے۔ اس وقت حالات اس قدر مشکل تھے کہ زخمی نمائندوں کو بھی اسٹریچر پر پارلیمنٹ لایا جاتا تھا تاکہ جمہوری نظام برقرار رہ سکے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں رہبر انقلاب کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ واقعہ تھا، لیکن اس کے نتیجے میں قوم میں نئی بیداری اور اتحاد پیدا ہوا۔

ڈاکٹر کمساری نے امام خمینیؒ کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے “استکبار” کے تصور کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ استکبار دراصل تکبر، سرکشی اور خدا کے احکامات سے انکار کا نام ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں “استسلام” یعنی خدا کے سامنے مکمل تسلیم و رضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں بھی مختلف ادوار میں استکباری قوتوں کا ذکر موجود ہے، جیسے فرعون، نمرود اور دیگر اقوام، جو ہمیشہ حق کے مقابل کھڑی رہیں۔ ان کے مطابق امام خمینیؒ نے امریکہ اور سوویت یونین کو بھی اسی استکباری سوچ کا تسلسل قرار دیا تھا۔

انہوں نے بعض تجزیہ کاروں کے اس موقف پر تنقید کی کہ امریکہ صرف صہیونی لابی کے زیر اثر ہے۔ ان کے مطابق یہ تجزیہ امریکہ کی اصل پالیسیوں کو کمزور انداز میں پیش کرتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود عالمی سطح پر مداخلت کرنے والی قوت ہے اور اسرائیل اس کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر کمساری نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی داخلی تقسیم یا اختلاف دشمن کے مفاد میں ہوگا۔ ان کے مطابق سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات کو چاہیے کہ وہ عوام میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا جب معاشرے میں مایوسی اور کمزوری محسوس کی جا رہی تھی، لیکن حالیہ واقعات نے عوام کو دوبارہ متحرک کر دیا اور لوگ بڑی تعداد میں میدان میں آئے۔ انہوں نے اسے ملک کا قیمتی “سماجی سرمایہ” قرار دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر کمساری نے کہا کہ ایران کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد، ایمان اور عوامی حمایت نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قوم اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے گی اور مشکلات پر قابو پا لے گی۔

ای میل کریں