امام خمینی آج ہوتے تو ایرانی قوم کی یکجہتی کو سراہتے

امام خمینی آج ہوتے تو ایرانی قوم کی یکجہتی کو سراہتے

ایرانی دانشوراور امام خمینی رہ کی بہو فاطمہ طباطبائی نے کہا ہے کہ کاش روح اللہ خمینی آج موجود ہوتے اور ایرانی عوام کی عظمت، صبر اور جرات کو سراہتے، جنہوں نے ہر موقع پر خصوصاً حالیہ حالات میں دفاعی قوتوں کی بھرپور حمایت کی۔

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی دانشوراور امام خمینی رہ کی بہو فاطمہ طباطبائی نے کہا ہے کہ کاش روح اللہ خمینی آج موجود ہوتے اور ایرانی عوام کی عظمت، صبر اور جرات کو سراہتے، جنہوں نے ہر موقع پر خصوصاً حالیہ حالات میں دفاعی قوتوں کی بھرپور حمایت کی۔

انہوں نے ایک عوامی اجتماع کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے اس وقت قوم کی طاقت اور اہمیت پر زور دیا تھا جب اس کی “نرم قوت” ابھی پوری دنیا پر واضح نہیں ہوئی تھی، مگر آج وہ حقیقت سب کے سامنے آ چکی ہے۔

فاطمہ طباطبائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط تعلق ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق امام خمینی ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر فوج اپنی قوم پر بھروسہ نہ کرے تو وہ اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی حمایت اور یکجہتی کے ذریعے اس نظریے کو عملی شکل دی ہے اور یہی اتحاد ملک کو عزت اور استحکام کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے شہداء اور فوجی قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور موجودہ قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، عوامی حمایت اور ریاستی اداروں کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

ای میل کریں