کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا،امام خمینی کا جذبۂ جہاد اور اخلاص پر مبنی پیغام

کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا،امام خمینی کا جذبۂ جہاد اور اخلاص پر مبنی پیغام

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی نے ایک اہم اور جذباتی بیان میں سپاہ پاسداران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا۔

کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا،امام خمینی کا جذبۂ جہاد اور اخلاص پر مبنی پیغام

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی  امام خمینی نے ایک اہم اور جذباتی بیان میں سپاہ پاسداران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاش میں بھی ایک پاسدار ہوتا۔

انہوں نے پاسداران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عظیم الٰہی توفیق ہے کہ وہ اسلام، قرآن اور وطن کے دفاع کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، کیونکہ ہر شخص کو یہ موقع حاصل نہیں ہوتا۔ امام خمینی نے کہا کہ مجاہدین کا ہر قدم خدا کی راہ میں ہوتا ہے اور یہی ان کے عمل کی اصل قدر و قیمت ہے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ میں شجاعت کا مطلب بے سوچ حملہ کرنا نہیں بلکہ نظم، حکمت اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی بہادری وہ ہے جو نظم و ضبط اور اخلاص کے ساتھ ہو، جبکہ بے احتیاطی کو انہوں نے “تہوّر” قرار دیا۔

امام خمینی نے نوجوان مجاہدین کے بلند حوصلے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی روحانی طاقت انسان کو حیران کر دیتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملک کو مغربی اثرات اور ماضی کے نظام سے نکال کر خالص اسلامی راستے پر لانا ہی اصل مقصد ہے۔

پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر انسان کا مقصد خالصتاً خدا کی رضا ہو تو پھر نہ تنقید کا خوف رہتا ہے اور نہ ہی دشمن کی مخالفت کا۔ انہوں نے امام علی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب حق پر قائم ہوں تو پوری دنیا کی مخالفت بھی اہمیت نہیں رکھتی۔

ای میل کریں