امام خمینی کا تاریخی پیغام،آیت اللہ خامنہ ای پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد رد عمل

امام خمینی کا تاریخی پیغام،آیت اللہ خامنہ ای پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد رد عمل

6 جولائی 1981 کوآیت اللہ العظمی سید علی خامنه‌ای پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جو ناکام ثابت ہوا۔ اس حملے کے پیچھے شدت پسند گروہ گروہ فرقان کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

امام خمینی کا تاریخی پیغام،آیت اللہ خامنہ ای پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد رد عمل

امام خمینی پورٹل کے مطابق 6 جولائی 1981 کوآیت اللہ العظمی سید علی خامنه‌ای پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جو ناکام ثابت ہوا۔ اس حملے کے پیچھے شدت پسند گروہ گروہ فرقان کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس واقعے کے ایک دن بعد اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی نے آیت اللہ خامنہ ای کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا تھا۔ اپنے پیغام میں امام خمینی نے کہا کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اسلام کے دشمن نادان لوگوں میں سے ہیں، کیونکہ انقلاب کے آغاز سے لے کر اب تک دشمنوں کی ہر سازش نے ایرانی قوم کو مزید متحد اور مضبوط بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں نے جب بھی سازشیں کیں، عوام کے حوصلے اور اتحاد میں اضافہ ہوا۔

امام خمینی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ دراصل ایسے شخص کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی جو رسول اکرمؐ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا جرم صرف اسلام اور اسلامی وطن کی خدمت ہے۔ انہوں نے خامنہ ای کو ایک بہادر سپاہی، مؤثر خطیب اور انقلاب کے مخلص رہنما کے طور پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے نے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، مگر اس کے باوجود اس نے خوف پیدا کرنے کے بجائے مسلمانوں کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا۔ امام خمینی نے اس موقع پر نوجوانوں اور ان کے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ دشمن عناصر کے فریب میں نہ آئیں اور اپنی زندگیاں ایسے جرائم کی نذر نہ کریں۔

 پیغام کے اختتام پر امام خمینی نے کہا میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں، اے خامنہ ای عزیز، کہ آپ نے میدانِ جنگ میں سپاہی کی حیثیت سے اور پسِ پردہ ایک عالم کی حیثیت سے اس مظلوم قوم کی خدمت کی ہے۔ میری دعا ہیکہ پروردگار آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

ای میل کریں