امام خمینیؒ نے وطن واپسی پر بہشتِ زہرا کا رخ کیوں کیا؟
جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شاہ کے ملک سے فرار کے بعد امام خمینیؒ نے اپنی وطن واپسی کا اعلان کیا جس پر پورے ایران میں خوشی اور جوش کی لہر دوڑ گئی۔ عوام بے تابی سے اس تاریخی لمحے کے منتظر تھے جب ان کے رہنما جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں گے۔
مرحوم صادق طباطبائی، جو امام خمینیؒ کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے، اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ شاہ کے فرار کے چند گھنٹے بعد امامؒ نے ایک بیان جاری کیا اور واضح کیا کہ وہ مناسب وقت پر ایران واپس آئیں گے۔ چند روز بعد، امامؒ نے قوم کے نام پیغام میں اعلان کیا کہ وہ جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔
وطن واپسی کے فیصلے کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ امام خمینیؒ ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد کہاں جائیں گے۔ بعض افراد نے تجویز دی کہ وہ اسمبلی جائیں، تاہم امامؒ نے اس تجویز کو فوراً مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس جانا ایسے ادارے کو بالواسطہ مشروعیت دینا ہوگا جو شاہی نظام کا حصہ رہا ہے، اس لیے وہ وہاں نہیں جائیں گے۔
بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ امام خمینیؒ سب سے پہلے بہشتِ زہرا جائیں گے تاکہ شہداء کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ امامؒ نے اس موقع پر واضح کیا کہ انقلاب کی اصل طاقت عوام ہیں، اور شہداء نے اس جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باوجود جب انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بہشتِ زہرا لے جانے کی تجویز دی گئی تو امامؒ نے کہا:
“میں لوگوں کے سروں کے اوپر سے نہیں جاؤں گا، میں ان ہی کے درمیان سے جاؤں گا۔”
یہی وجہ تھی کہ امام خمینیؒ کی تاریخی واپسی کا پہلا پڑاؤ بہشتِ زہرا بنا، جہاں انہوں نے ایک یادگار خطاب کے ذریعے انقلاب کی سمت اور عوامی حاکمیت کے اصول واضح کیے۔