مغربی میڈیا اور غزہ

مغربی میڈیا اور غزہ

یورپی یونین کے انٹرنل مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن نے منگل کو ایلون مسک کو سوشل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر غلط معلومات کو محدود کرنے کے حوالے سے خبردار کیا

تحریر: سید رضا میر طاہر

 

حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے آغاز کے بعد مغربی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں ہونے والی خبروں اور پیشرفت کی کوریج کو روکنے کے لیے ایک وسیع مہم شروع کی اور دوسری طرف جھوٹی خبریں پھیلانے کی بھی بھرپور کوششیں کیں۔ فلسطینی جنگجوؤں کی غیر انسانی تصویر پیش کرنے کے ساتھ ہی میڈیا میں فلسطینی کاز اور فلسطینی جنگجوؤں کی حمایت کرنے پر سزا دینے کا عمل بھی تیز کر دیا۔ اس حوالے سے میڈیا ذرائع نے اعلان کیا کہ امریکی MSNBC چینل نے مغربی ایشیاء کی حالیہ بدامنی کے درمیان تین مسلمان اینکر پرسن اور نیوز رہڈر کو چینل سے نکال دیا ہے۔ ہفتہ کی صبح سیمفور نیوز سائٹ نے "مہدی حسن"، "ایمن محی الدین" اور "علی والشی" تین مسلمان اینکر پرسن کو فلسطینیوں سے حمایت کے جرم میں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا یہ اقدام صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف تنقیدی مؤقف اختیار کرنے یا اسرائیل نواز موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے انجام پایا ہے۔

 

حماس کے خلاف جعلی خبروں کی لہر

صیہونی حکومت اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے درمیان حالیہ تنازعات کے آغاز سے ہی امریکی نیوز نیٹ ورکس بشمول CNN نے نہ صرف اسرائیل کی کھل کر حمایت اور غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف اس کے جرائم کو نظر انداز کرنے کی روش اختیار کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹی خبریں بھی شائع کی ہیں۔ مغربی ذرائع نے جعلی خبروں اور جھوٹی افواہوں سے فلسطین کے جہادی گروہوں بالخصوص حماس کی ایک بھیانک اور غیر انسانی تصویر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بہت سے معاملات میں یہ جھوٹ بے نقاب ہوچکے ہیں اور ان میڈیا نیٹ ورکس کو اپنی جعلی خبروں کو درست بھی کرنا پڑا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹر سارا سیڈنر جس نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ حماس نے بچوں کے سر کاٹ دیئے ہیں، ایکس سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام میں اپنے الفاظ واپس لے لیے۔

 

اسرائیلی بچوں کے سر قلم کرنے کی جھوٹی خبر شائع کرنے پر سی این این کی رپورٹر سارہ سیڈنر نے باقاعدہ معافی مانگی۔ انہوں نے لکھا: "کل اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا کہ اس نے تصدیق کی ہے کہ حماس نے بچوں کے سر قلم کیے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "اسرائیلی حکومت آج کہتی ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتی کہ بچوں کے سر کاٹے گئے تھے۔ مجھے اپنے الفاظ کے بارے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت تھی اور میں معذرت خواہ ہوں۔"

 

اس سے قبل بعض مغربی میڈیا نے حماس کے ہاتھوں ذبح کیے جانے والے بچوں کی تصاویر کی اپنے پاس موجودگی کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ دریں اثناء، مغربی ممالک نے سوشل نیٹ ورکس کے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک وسیع کوشش شروع کر دی ہے، یقیناً زیادہ تر مقصد حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے موقف یا ان کے لیے عوامی حمایت پر مشتمل کسی بھی مواد کی اشاعت کو روکنا ہے۔ ایسا اس بہانے سے کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان تنازعات میں اضافے اور غزہ پر صیہونی حکومت کے جوابی فضائی حملوں کے باعث سوشل نیٹ ورکس پر اس تنازعے سے متعلق غلط معلومات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں فیک تصاویر بھی شامل ہیں۔ اسی طرح غلط لیبلز والی ویڈیوز کے ساتھ دل دہلا دینے والی تصاویر بھی موجود ہیں۔

 

نئی X پابندیاں

یورپی یونین کے انٹرنل مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن نے منگل کو ایلون مسک کو سوشل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر غلط معلومات کو محدود کرنے کے حوالے سے خبردار کیا اور کہا ہے کہ مغربی ایشیاء میں حالیہ تشدد کے بعد سوشل نیٹ ورک غیر قانونی مواد اور غلط معلومات کو شائع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ برٹن نے میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کو بھی اسی طرح کی وارننگ جاری کی، جس میں کمپنی سے کہا گیا کہ وہ یورپی قانون کی تعمیل کو یقینی بنائے۔ یورپی یونین کی یہ کارروائی ڈیجیٹل سروسز قانون کے نفاذ کے بہانے کی گئی ہے۔ حال ہی میں نافذ کردہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ میں آن لائن پلیٹ فارمز بشمول X اور Facebook سے غیر قانونی مواد کو ہٹانے اور عوامی تحفظ اور شہری پرائیویسی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے۔

 

اس تناظر میں یورپی کمیشن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ حماس سے متعلق آن لائن مواد کو دہشت گرد مواد کے طور پر جانا جاتا ہے، یہ غیر قانونی ہے اور اسے ڈیجیٹل سروسز کے قانون اور آن لائن دہشت گردی کے مواد کے ضوابط کے تحت ہٹا دیا جانا چاہیئے۔ اس تناظر میں توقع کی جاتی ہے کہ یورپی یونین کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے X اور Meta سوشل نیٹ ورکس کی مالک کمپنیاں فلسطینیوں کی حمایت میں خبریں، رپورٹیں اور موقف شائع نہہں کریں گی اور صرف صیہونی حکومت کے خلاف اقدامات سے متعلق خبروں کی عکاسی کریں گی۔ اس نیٹ ورک میں غزہ کے لوگوں کی مظلومیت کے بارے میں خبریں نہیں ہونگی اور بالخصوص یورپی ممالک میں ان خبروں کے حوالے سے بہت سی پابندیوں کا اطلاق عمل میں آئے گا۔

ای میل کریں