اردو شاعری

محراب عشق

دیوان حضرت امام خمینی (رح)

جز خم ابروئے دلبر مری محراب نہیں

ہجر رخ کا ہے غم، اور کوئی تب و تاب نہیں

دل میں  حسرت تھی کہ دیکھوں  ترا خورشید جمال

خواب ہی ہیں ، مگر آنکھوں  میں  مری خواب نہیں

سر ترے در پہ جھکے، جان تری یاد میں  جائے

سر ہو یا جان، کوئی شے مجھے نایاب نہیں

راز دل کس سے کہوں  آہ! کہ اک تیرے سوا

دوسرا واقف درد دل بیتاب نہیں

چاہئے بادہ جاں  بخش کہ ہوں  تشنہ عشق

میں  نے دریاؤں  میں  دیکھا ہے کہیں  آب نہیں

ہے ترے عشق میں  یہ میری پریشاں  حالی

یاد اب مجھ کو ترے عشق کے آداب نہیں

ای میل کریں