حاج آقا مصطفی کی زندگی پر سرسری نگاہ

حاج آقا مصطفی کی زندگی پر سرسری نگاہ

حاج آقا مصطفی کی زندگی پر سرسری نگاہ

ولادت

آیت اللہ سید مصطفیٰ خمینی امام خمینی (رہ) کے بڑے بیٹے  ۱۳۰۹ ھ،ش میں ماہ آذر کی ۳۰ ویں تاریخ کو شہر قم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ماجد امام خمینی (رہ) اور ان کے والدہ محترمہ خدیجہ ثقفی ہیں۔ ان کا نام محمد اور لقب مصطفی اور کنیت ابوالحسن ہے۔ آقا سید مصطفی نے معمول سے ہٹ کر چار سال کی زندگی میں بولنا شروع کیا لہذا چھ سال کی عمر میں انہیں ایک مکتب میں بھیجا گیا جو ان کی بول چال میں بہت مؤثر ثابت ہوا۔

تعلیم:

سید مصطفی نے سات سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کیا اور اپنی ابتدائی تعلیم قم کے "باقریہ" اور "سانائی" نامی اسکولوں میں مکمل کی۔ سن 1324 ھ،ش میں (15 سال کی عمر میں) اپنے والد کی جانب سے حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور 1326 ھ،ش میں (17 سال کی عمر میں) مقدماتی کورس کے اختتام کے بعد اعلیٰ تعلیم کے مرحلے میں داخل ہوئے اور عمامہ بھی پہن لیا۔ جناب سید مصطفی 1330 ھ،ش میں (تقریبا 22 سال کی عمر) نے آیت اللہ بروجردی اور امام خمینی (رہ) کے درسِ خارج میں حصہ لیا۔ جناب سید مصطفی نے 27 سال کی عمر میں اجتہاد کی ڈگری حاصل کی اور یہ وہی وقت تھا جب وہ اپنے چاہنے والے افراد اور یہاں تک کہ امام (رہ) کی نظر میں۔ جو اس سلسلے میں بہت سخت تھے ۔ وہ 25 سال کی عمر میں اجتہاد کے مرحلے پر پہنچ چکے تھے۔

انہوں نے اسی عمر میں عقلی اور نقلی دونوں علوم کی تدریس بھی شروع کر دی اور متعدد کتابیں بھی تالیف کیں۔ انہوں نے اپنی ۳۳ سال کی عمر میں 12 کتابیں لکھ ڈالی تھیں۔ ترکی میں جلاوطنی کے دوران جب ضروری کتابیں اور حوالہ جات دستیاب نہیں تھے تو انہوں نے دو جلدیں تالیف کیں اور نجف اشرف میں تدریس کے علاوہ انہوں نے فقہ، اصول، فلسفہ اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں جن میں سبھی ان کی عمدہ لیاقت اور ذہانت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ بہت ذہین تھے۔ نجف کے بہت سارے علمائے کرام اور اہل علم میں ان کا خاص مقام تھا۔ اصول فقہ میں وہ بہت ماہر تھے اور ان کی سائنسی آراء بہت سے افراد کے لئے نئی اور قابل استفادہ تھیں۔

اساتذہ:

انہوں نے متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ذیل میں ہم مشہور اساتذہ کا نام ذکر کر رہے ہیں:  درس خارج میں امام خمینی (رہ) اور آیت اللہ بروجردی (رہ)۔ درس اسفار اور علوم فلسفہ میں علامہ سید محمد حسین طباطبائی اور آیت اللہ سید ابوالحسن رفیعی قزوینی۔ آیت اللہ محمد داماد۔  فقہ و اصول کے میدان میں آیت اللہ شیخ مرتضیٰ حائری، آیت اللہ محمد باقر سلطانی، آیت اللہ شہید محمد صدوقی اور آیت اللہ محمد جواد اصفہانی۔ ادب اور کتاب لمعہ میں حاج شیخ جعفر سبحانی۔

تالیفات:

قم میں تالیفات:

آپ نے متعدد کتابوں کی تالیف کی جن میں حسب ذیل کا نام لیا جا سکتا ہے:  الاجاره۔ القواعد الحکمیه (فلسفہ کے کلی قواعد کے بارے میں)۔ القواعد الفقهیه (بعض قواعد فقهی کی تعداد کے بارے)۔

حاشیه بر اسفار اربعه۔ حاشیه بر "المبدا و المعاد تالیف صدرالمتألهین"۔  رساله ای در بحث قضای صلوات۔ رساله ای در بحث "الخلل فی الصلاه" اور "الفوائد الرجالیه"۔

ترکی میں تالیفات:

در ترکیه:

الواجبات فی الصلاه۔ الفوائد و العوائد (اصول، فقه، کلام و عرفان کے مختلف مسائل کے بارے میں پراکندہ یاداشتیں)

نجف میں:

تحریرات فی الاصول (علم علوم کی بحث میں ابتدا سے استصحاب کی بحث تک)۔ الصوم۔ الطهاره۔  البیع (یہ کتاب متعدد جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں معاملات کے سلسلہ میں مباحث پائے جاتے ہیں)۔ الخیارات۔  المکاسب المحرمه۔ الخلل فی الصلاه۔ الحاشیه علی العروه الوثقی۔  تحریر العروه الوثقی۔ الحاشیه علی تحریر الوسیله۔  تفسیر القرآن الکریم ( ابتدائے قرآن سے آیه 146تک)۔

دروس اعلام و نقدها۔

شادی:

جناب سید مصطفی نے محترمہ معصومہ حائری (آیت اللہ شیخ مرتضیٰ حائری کی بیٹی) سے 1/17/1333 ھ،ش میں (24 سال کی عمر) میں شادی کی۔ ان کے ہاں پہلی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام محبوبہ تھا، جو بیماری کی وجہ سے چل بسیں۔ ان کا دوسرا بیٹا حسین نام کا تھا اور ان کی اولاد میں تیسری بیٹی مریم نام کی تھی۔ ۱۳۴۳ھ،ش میں پہلوی حکومت کی جانب سے ان کے گھر پر حملہ کے بعد محترمہ حائری اس ناگوار واقعے کے بعد مستقل طور پر بیمار ہوگئیں اور اس کے بعد ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہو سکا۔

اخلاقی خصوصیات:

اس شہید کے معاشرتی کردار کے بارے میں غور کرنے سے جو اہم چیز معلوم ہوتی ہے وہ ان کی سادہ زندگی تھی۔ اگرچہ وہ امام خمینی (رہ)  کے بیٹے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور ان کا معیار زندگی ایک سادہ طالب علم سے زیادہ نہیں تھا اور یہ چیز ان کے وصیتنامہ میں بھی واضح طور پر ملتی ہے۔ ان کا حسن خلق ہر ایک کی زبان پر تھا، زہد، پرہیزگاری، تقویٰ، استقلال وغیرہ وغیرہ صفات کو ان کی اخلاقی خصوصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی جدوجہد:

سید مصطفیٰ کی سیاسی جدوجید کا آغاز ان کی فدائیان اسلام سے آشنائی سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ پوری زندگی سیاسی جدوجہد میں مصروف رہے، ساواکیوں کو ان سے بہت خطرہ محسوس ہوتا تھا جیسا کہ ساواکیوں نے خود اس موضوع پر کئی مرتبہ تاکید کی حاج سید مصطفی خمینی اپنے والد کی سیاسی جدوجہد میں اہم کردار رکھتے ہیں۔

شہادت:

آخر کار آیت اللہ سید مصطفی خمینی 47 سال کی محنتی اور جدوجہد کی زندگی کے بعد ۱۳۵۶ھ،ش کی صبح اچانک اور پراسرار طور پر نجف میں واقع اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔ موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ لیکن قریبی رشتہ داروں، لواحقین اور دوستوں کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سید مصطفی کی موت معمول کے مطابق اور عادی طور پر نہیں ہوئی، بلکہ ایک  طرح کے زہر کی وجہ سے (غالبا ساواک یا عراقی سرکاری سکیورٹی ایجنٹوں یا ان کی ملی بھگت سے)  وہ شہید ہوگئے۔ ان کے جسم میں زہر کے اثرات ابتداء سے ہی نمایاں تھے ڈاکٹر موت کی وجہ معلوم کرنے کے لئے اس کے جسم کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہتے تھے لیکن امام خمینی (رہ) کی مخالفت کی وجہ سے یہ کام نہیں ہو پایا۔ آیت اللہ سید مصطفی کی میت کو نجف سے کربلا لے جایا گیا، ان کے جنازے کو  فرات کے پانی سے غسل دیا گیا اور امام حسینؑ کے خیمہ گاہ کے مقام پر ان کی تکفین ہوئی اور حرم مطہر سید الشہداء اور حضرت عباسؑ کے طواف کے بعد نجف اشرف واپس لایا گیا اور اگلے دن نجف اشرف میں ان کی تشیع جنازے میں علماء سمیت بڑے تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ان کی نماز جنازہ حضرت آیت اللہ خوئی نے پڑھائی اور اس کے بعد انہیں دفن کیا گیا۔   

ای میل کریں