ہم سب برابر کے شریک ہیں!

ہم سب برابر کے شریک ہیں!

پارٹی ڈسپلن تو وہ بندہ زیر پا رکھتا ہے جس کے پاس معیار حق اور باطل ہو؛ معاویہ بن یزید کا کردار ضرور ملاحظہ کیجئےگا۔

پارٹی ڈسپلن تو وہ بندہ زیر پا رکھتا ہے جس کے پاس معیار حق اور باطل ہو؛ معاویہ بن یزید کا کردار ضرور ملاحظہ کیجئےگا۔

چند سال پہلے کسی دعوت پر اس وقت کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر جناب وزیر حسن صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی اور بات پر بات نکلی اور سیاسی رنگ پکڑ گئی اور جناب وزیر صاحب نے فرمایا کہ ایک دن یہ سید مہدی شاہ (وزیر اعلی) جی بی کو بیچ دےگا!

میں نے موصوف سے کہا: قبلہ اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ آپ بھی تو پی پی پی کے نمایندہ ہیں اور وزیر اعلی کےلئے آپ نے بھی ووٹ دیا ہے؛ یہ آپ کا جرم ہےکہ ایسے بندے کو کیوں انتخاب کیا؟

وزیر صاحب نے فرمایا: قبلہ، بات تو صحیح ہے لیکن یاد رکھنا اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں!

تعجب سے پوچھا: وہ کیسے؟

کہا: آپ (عوام) نے ہی تو مجھے ووٹ دےکر اسمبلی بھیجا تھا تو میرے گناہ میں اور مہدی شاہ صاحب کے گناہ میں، ہم سب برابر کے شریک ہیں!

تو موجودہ صورتحال بھی کچھ اس طرح ہے، جب ووٹ دینے کی باری آئی تو جی بی والوں نے جس کی لاٹھی اس کو ووٹ کی بنیاد پر ن لیگ کو بھاری اکثریت سے جتوایا اور ممبران اسمبلی میں جانے کے ن لیگ کی مرضی کے مطابق، حفیظ الرحمن کو وزیر اعلی بنا دیا اور اب وہ جی بی کا سودا کرنے جا رہا ہے۔

Image result for ‫سکردو میں احتجاج‬‎

اس کے جرم میں ہر وہ شخص شامل ہوگا جس نے ن لیگ کو ووٹ دیا ہے یا ان کے کسی نمایندے کی حمایت کی ہے یا ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ جیت گئے ہیں یا کسی کی غلط پالیسی کی وجہ سے ن لیگ جیت گئی ہے، سب کے سب، اس جرم میں شامل ہوں گے۔

لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ جرم کیا ہے اور مجرم کون ہے بلکہ اگلے مرحلے میں یہ بات بھی واضح کرلیں کہ جس سیسٹم میں پارٹی کا قانون ہو تو پارٹی ڈسپلن کے مطابق چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، پارٹی ڈسپلن تو وہ بندہ زیر پا رکھتا ہے جس کے پاس معیار حق اور باطل ہو؛ جس طرح سے یزید ابن معاویہ کا بیٹا معاویہ جس نے بنی امیہ کی سنت کو پا‌ئمال کرتا ہوا امام حسین علیہ السلام کے خون سے آلودہ حکومت کو ٹھکرا دیا اور اپنے آپ کو اس ننگ و عار سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے پاک کیا۔

اس طرح کی دلیری کےلئے روح کی آزادی درکار ہوتی ہے جس طرح سے حر بن یزید ریاحی رضوان اللہ علیہ نے کربلا میں آخر وقت میں امام حسین (ع) کی فوج میں شامل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سرخرو ہوگئے۔

امام خمینی (رح) فرماتے ہیں:

حضرت آدم (ع) سے لےکر حضرت خاتم النبیین (ص) تک، تمام انبیاء(ع) اس لئے آئے ہیں کہ انسان کو ٹیڑھے اور باطل راستوں سے انسانیت کے صراط مستقیم کیطرف ہدایت کریں جس کی ایک جانب یہاں ہے اور دوسری اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے۔ [صحیفہ امام، ج۱۵، ص۶۹]

اب ہمارے منتخب نون لیگی نمایندوں کے پاس تین آپشنیز ہیں:

۱/۔ اسمبلی میں رہ کر اپنا موقف بہ بانگ دھل اعلان کریں اور میثم تمار (رح) کی طرح ہمیشہ کےلئے زندہ و جاوید بنیں اور حق بات کی پرچار کریں، قوم و ملت کی صحیح ترجمانی کریں اور ضرورت پڑنے پر وزیر اعلی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کھڑے ہوجائیں۔

۲/۔ ن لیگ کے انتخاباتی منشور کو مدنظر رکھتے ہوئےکہ جس میں جی بی کو آ‌ئینی حقوق دینے کا وعدہ دیا تھا اس وعدہ کے مطابق، مرکزی قیادت سے وعدہ وفائی کا مطالبہ کریں اور نہ ماننے کی صورت میں اسمبلی سے استعفی دیں۔

۳۔ ذلت اور حقارت کا ہار پہن کر خاموشی اختیار کریں اور اپنے پانچ سال کی کمائی کے پیچھے لگے رہیں اور حفیظ الرحمن کی ہر بات پر دم ہلاتے رہیں۔

جہاں تک اندازہ ہوتا ہے، جی بی کے عوام میں ابھی تک جنگ آزادی کا ولولہ موجود ہے، سنی شیعہ فرق کو بالای طاق رکھتے ہوئے ہمارے نمایندے گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے پہلے آپشن پر عمل کریں گے اور نہ ماننے کی صورت میں دوسرے آپشن پر اتر آئیں گے، چونکہ ہمارے نمایندے بھی ہم میں سے ہیں۔

ن لیگ کے بہت سارے نمایندے جی بی کےلئے جان دینے کو تیار ہیں، ان میں قومی جذبہ موجود ہے؛ مثال کے طور پر فدا محمد ناشاد، ڈپٹی اسپیکر جعفر اللہ، وزیر ڈاکٹر اقبال، وزیر ثنائی اور دیگر ممبران جنہوں نے اب تک بہت سارے مواقع پر کھل کر بات کی ہے اور وزیر اعلی کی خاموشی کے باوجود یا ان کے انکار کے بعد کہ ہم نے آئینی حقوق دینے کا وعدہ نہیں دیا ہے، ان میں سے بعض ممبران نے واضح طور پر کہا ہےکہ عوام نے آئینی حقوق کے وعدے پر ہمیں ووٹ دیا ہے تو اب بھی ہمیں امید ہےکہ وزیر اعلی کی بات کو قانونی شکل میں پرکھ لیں اور ان کی بازخواست کریں۔

Image result for ‫سکردو میں احتجاج‬‎

لیکن اس حساس موڑ پر عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے وہ بھی وزیر اعلی کے اس جرم میں شریک ہیں تو ان سے بھی یہی توقع ہےکہ شریک جرم کا توبہ کرتے ہوئے اپنے ممبران کو گائیڈ لاین دیں اور گورنمنٹ کے بجائے عوام کی ترجمانی کرنے پر مامور کریں۔

ان سب سے اہم اور پاورفل عنصر جو کم وقت اور کم زحمت پر اس مشکل کو حل کرسکتا ہے، وہ عوامی طاقت ہے۔

اگر جی بی کی عوام یک صدا ہاتھوں میں ہاتھ دےکر ایکبار اٹھ کھڑے ہوجائیں تو وزیر اعلی تو کیا پورا پاکستان سکون سے نہیں سو پائےگا؛ ضرورت اس امر کی ہےکہ عوام کو یہ شعور دیا جائےکہ وزیر اعلی کیا کرنے جا رہا ہے؛ اگرچہ عوام بھی اس جرم میں کسی حد تک شریک ہے لیکن حدیث کے مطابق "الناس علی دین ملوکھم" عوام الناس اپنے حکمرانوں کے دین اور راہ پر ہوتے ہیں یعنی ان کا اپنا کوئی نظریہ نہیں ہوتا اس وجہ سے ان کا جرم شاید کمتر ہو۔

یاد رکھنا؛ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان سے محبت ہے اور پاکستان کو ہم نے ہی بچایا ہے اور کرپٹ، جاہل، نالائق، بزدل اور بکے ہوئے حکمرانوں کی غلط اور شیطانی چالاکیوں کی وجہ سے ہمیں پاکستانی بننے سے متنازع قرار دینے سے کچھ نہیں ہوتا "ہم پاکستانی تھے، ہیں اور رہیں گے" لیکن کب تک؟

ستر سالوں سے تمام تر صعوبتوں کو جھیلا، ظلم و حقارت برداشت کیا، خون دل پی لیا، جوانوں کو قوم پرستی کے الزام پر لگام دیا، قوم کے بہادروں کو جیل بھیجنے پر چپ کا روزہ رکھا، کرگل کے محاذ پر جوانوں کا خون دیا، قوم کی بیٹیوں کو بیوہ ہونا برداشت کیا، معصوم بچے یتیم ہوگئے،

ان ساری مصیبتوں کو صرف پاکستان کےلئے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کےلئے ہم نے تحمل کیا اور اب بھی ہمارے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے!!

جب تک صبر کا مرحلہ تھا ہم نے "و تواصوا بالصبر" پر عمل کرتے ہوئے ستر سال گزار لئے لیکن اب موت اور زندگی کا مسئلہ ہے، گلگت بلتستان والوں کو حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، اس صورت میں ہر قسم کا سکوت خیانت اور قوم و ملت پر ظلم تصور کیا جائےگا۔

موجودہ حالات اور عوامی جذبات سے معلوم ہوتا ہےکہ ہمارے آئینی حقوق ناممکن نہیں ہیں، بس چھین کر لینے کی ضرورت ہے۔

اگر یہی جذبہ اور ولولہ رہا تو وہ دن دور نہیں گلگت بلتستان کی فضاوں میں آئینی حقوق کا جشن منعقد ہوگا اور ہر شیطان صفت حکمران کی نیندیں حرام کرےگا۔

الیس الصبح بقریب

 

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

ای میل کریں