تجھ پر ہو سلام

تجھ پر ہو سلام

توہی مصداقِ اَشِدّاءُ علی الکفار ہے / عالمِ اسلام کے درمان تجھ پر ہو سلام

اے فروغ ملت ایران تجھ پر ہو سلام

اے بہارد اشتر دوران تجھ پر ہو سلام

تجھ سے قائم آج تک ہے انقلابِ بے نظیر

تجھ سے ہے اب دین کی پہچان تجھ پر ہو سلام

تجھ سے پہلے تو خمینی تھا ہمارا سربراہ

اب ہمارا تجھ پہ ہے ایمان تجھ پر ہو سلام

دہر بھر میں ڈھونڈ کر ملتا نہیں تیرا جواب

کیون نہ ہو قربان تجھ پر جان تجھ پر ہو سلام

تو تشیع کا فخر ہے ہو میرا تجھ پر درود

ملتِ اسلام کے سلطان تجھ پر ہو سلام

جرات انکار بیعت تجھ سے قائم ہے ہنوز

کربلا والوں کی تُو پہچان تجھ پر ہو سلام

ملتِ اسلام کی توقیر تیرے نام سے

تھرا تھرائے ظلم کے ایوان تجھ پر ہو سلام

توہی مصداقِ  اَشِدّاءُ علی الکفار ہے

عالمِ اسلام کے درمان تجھ پر ہو سلام

اظہرِ ناچیز تیرا ایک ادنی سا غلام

پوری دنیا کو ہے تجھ پر مان تجھ پر ہو سلام

 

کاچو اظہر عباس – پاکستان

7 فروری 2018ء

ای میل کریں