امام خمینی(رح) اور کارآمد اور مفید حکومت (۵)

امام خمینی(رح) اور کارآمد اور مفید حکومت (۵)

عوام کے مطالبات اور ضروریات کا پاس رکھنا

عوام کے مطالبات اور ضروریات کا پاس رکھنا

مختلف حوالوں سے عوام کی ضروریات، مطالبات اور تقاضوں کا مثبت اور باقاعدہ سنجیدگی کے ساتھ جواب دینا بھی حکومتوں کے کارآمد اور پائیداری کے عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی لئے امام بھی حکومتوں کے کارآمد ہونے کو عوام کے مطالبات کا درست جواب دینے کا نتیجہ جانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ ایرانی عوام کی طاغوتی اور پہلوی حکومت کی مخالفت اور اس کے خلاف قیام کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہی تھی کہ حکومت عوام کے ساتھ نہیں تھی، قوم کے تقاضوں پر کوئی توجہ نہیں دیتی تھی اور عوام کے سامنے اپنی ذمہ داریوں پر بالکل کوئی عمل نہیں کیا۔

صحیفہ امام؛ ج۳، ص۳۳۶

اسی بناپر امام، اسلامی حکومت کے زمامدار طبقے کو بار بار یاد دہانی کرتے ہیں کہ " آپ اس وقت ملت کے ساتھ ہمآہنگی کئے بغیر، ایران میں کوئی بھی کام نہیں کرسکتے اور عوام کے ساتھ ہمآہنگی کے معنی یہ ہیں کہ آپ ان کے مطالبات اور درخواستوں پر توجہ دیں۔"

صحیفہ امام؛ ج۱۵، ص۳۵۵

اسی سلسلہ میں امام رحمت اللہ علیہ تمام اسلامی اور حکومتی ذمہ داروں کو سفارش کرتے ہیں کہ کوشش کریں " وزارتوں اور ادارات کی قوم کے حق و فائدہ میں اصلاح کریں، عوام کے مطالبات کا جواب گو ہوں۔ عوام الناس کی رضایتِ اطمینان اور خوشنودی کو جلب کریں۔"

صحیفہ امام؛ ج۱۹، ص۴۰۹

بانی انقلاب امام خمینی کا اعتقاد یہ ہےکہ اگر عوام دیکھے کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ ان کے مطالبات کا جواب دینے کی کوشش کررہی ہے اور عوام کی خدمت میں سرگرم ہے، پھر عوام کو حکومت سے کوئی جھگڑا نہیں۔ لڑائی وہاں ہوتی ہے جہاں عوام دیکھے کہ ایک حکومتی ذمہ دار، اہلکار آیا ہے تاکہ عوام پر داغ پر داغ، صدمے پر صدمہ دے، زمامدار اقتدار پر آئے ہیں تاکہ کسی بھی طرح عوام کو لوٹیں، حکومت اپنی طاقت اور کرسی کو جمانے کےلئے اقتدار پر آئی ہے۔

صحیفہ امام؛ ج۱۳، ص۳۸۳

لیکن جب تمام حکومتی اہلکار اور ذمہ دار افراد یہ طے کریں کہ ہم اپنے کام درست انجام دیں گے اور عوام کی خدمت کریں گے۔ اور جب عوام بھی دیکھے کہ اسلامی حکومت کا پورا وجود خدمت ہے، پوری کوشش ہےکہ عوام میں رہے، حکومت چاہتی ہےکہ عوام ہر حوالے سے اپنی ضرورت اور خواہش تک پہنج جائے، ثقافتی حوالے سے بھی، معاشیاتی حوالے سے بھی اور دیگر تمام جہات سے، جب ملت اس بات کو با قاعدہ محسوس کرے، قہری طور پر حکومت سے عوام کی پشت پناہی اور حمایت بڑھ جائے گی۔

صحیفہ امام؛ ج۱۳، ص۴۹۷

اسی لئے امام خمینی علیہ الرحمہ پے در پے اسلامی حکومت کے ذمے دار طبقے کو اس بات کی سفارش کرتے ہیں کہ اپنا تمام ہم و غم عوام کی خدمت گزاری پر خرچ کریں اور خود کو عوام کا خدمت گزار و خادم سمجھیں؛ اسلام میں حکومت، عوام کی خدمت کےلئے ہے اور امام کی تعبیر کے تحت یہ چیز اسلام میں ایک سیرت تھی کہ حکومت، عوام کی خدمت میں رہے۔

صحیفہ امام؛ ج۷، ص۱۱۸

اور اس لئے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عوام کے خدمتگزار تھے، اس کے با وجود کے آپ(ص) کا مقام سب سے اعلی اور اول تھا لیکن عوام کے خدمتگزار تھے، خدمت کرتے تھے عوام کی۔ اس سے پہلے بھی پیغمبران اور انبیاء کرام(ع) خود کو خدمتگزار جانتے تھے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ایک نبی اللہ یہ خیال کرے کہ عوام پر حکومت رکھتا ہے، اللہ کے بزرگ اولیاء اللہ اور انبیاء عظام(ع) سب کے سب یہ احساس اور جذبہ رکھتے تھے کہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ عوام کی ہدایت کریں، ارشاد و موعظہ کریں، ان کی خدمت کریں۔ لہٰذا دیگر تمام زمامداروں کو انبیاء اور اولیاء اللہ کی تاسی کرنی چاہیئے اور ان کا دلی احساس یہ ہونی چاہیئے کہ ہم حقیقتاً اس لئے اقتدار پر آئے ہیں تاکہ اس عوام کی خدمت کریں۔

صحیفہ امام؛ ج۱۵، ص۳۵۸

 

جاری ہے  

ای میل کریں