ضرب خمینی(رح)

ضرب خمینی(رح)

وہ خمینی بنا دین کا پاسباں // جس کی رگ رگ میں تهی بوذری، قنبری

شاہ کی بربریت جو حد سے بڑهی

کانپ اٹهی سرزمین سارے ایران کی

حق پرستوں کو ایذائیں ملنے لگیں

اور بڑهنے لگی ظلم کی تیرگی

خون ناحق نہتوں کا بہنے لگا

موت کا ناچ تها اور غارت گری

سختیاں بے گناہوں پہ اتنی ہوئیں

سارے ماحول پر چها گئی بے کسی

جنگ کرنے لگیں ظلمتیں نور سے

ظلم سے حق کی آواز دب نہ سکی

حق پسندوں کو ظالم دبا کب سکا؟

حق و باطل میں اک جنگ سی چهڑ گئی

سرخ رو حق ہوا، ظلم پسپا ہوا

بهاگا ایران سے آخــــر شاہ بهی

دور شداد ونمرود آخر مٹــا

اس پہ بهرپور ضرب خمینی پڑی

تیرگی کها گئی آریا مہر کو

یعنی قربانیوں کی سحر ہوگئی

حق پرستوں کو ہر دم سنبهالے رہی

ایک آواز، ایک معتبر روشنی

عزم ایران کو جس نے بخشی ضیــا

روشنی وہ امام خمینی کی تهی

انقلاب خمینی کو تاریخ وار

لکه رہا تها مورخ بہ حرف جلی

وہ خمینی جو تها پیرو مصطفی

اس نے خطبوں سے دی قوت حیدری

سازشیں بهی ہوئیں، فتنے اٹهے مگر

پهر بهی دنیا کی کرتا رہا رہبری

وہ خمینی جسے دشمنوں نے کہا

دفتر آگہی، بزم دانشوری

وہ خمینی ائمہ کا لخت جگر

بخش دی مردہ ایران کو زندگی

وہ خمینی تها سرچشمہ علم وفن

جس کے زیر نگیں سطوت قیصری

وہ خمینی بہتّر  کا تها جو نقیب

جس کا مسلک رہا امن اور آشتی

وہ خمینی بنا دین کا پاسباں

جس کی رگ رگ میں تهی بوذری، قنبری

روح پر اس کی میرے ہزاروں سلام

جس سے طاغوتی طاقت میں ہلچل مچی

جشن ایران سب کو مبارک رضــا

انقلابی مہینہ ہے یہ فروری

 

رضـا امروہوی - ہندوستان

ای میل کریں