صدر اسلام میں حکام اور عوام  کے درمیان تعلقات

صدر اسلام میں حکام اور عوام کے درمیان تعلقات

کسی بھی ملک کےحاکم اور عام آدمی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود حکومت کے سربراہ تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا برتاو ایسا تھا کہ آپ مسجد اقصی میں عام لوگوں کے ساتھ بیتھ کر اُن کے مسائل سنتے اور حل کرتے تھے اور اگر کوئی اجنبی باہر سے آتا تھا تو اسے وہاں پر موجود لوگوں سے سوال کرنا بڑتا تھا کہ آپ میں سے سر براہ اور حاکم کون ہے امیر المومنین علیہ السلام کے زمانے میں بھی حاکم عدالت میں حاضر ہوا تھا اور جج نے جب علی علیہ السلام کا احترام کرنا چاہا تو آپ نے منع کر دیا اور فرمایا کہ آپ کو میرا احترام کرنے کا حق نہیں ہے ہم دونوں آپ کی عدالت میں ہیں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہے اس کے جج نے علی علیہ السلام کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا جس کو علی علیہ السلام نے خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔

جمعرات, اپریل 30, 2020 11:26

مزید
عدالت؛ حضرت علی (ع) کی نظر میں

عدالت؛ حضرت علی (ع) کی نظر میں

حکومت، حضرت علی (ع) کی نظر میں کوئی دروازہ نہیں ہے کہ حاکم اور فرمانروا اسے خیرات کرنے اور بے حساب نعمتوں کے لئے کھول دے

پير, اپریل 13, 2020 12:07

مزید
عراق میں امریکیوں کی نئی غلطی ان کے فوری انخلا پر منتج ہوگی: ایران

عراق میں امریکیوں کی نئی غلطی ان کے فوری انخلا پر منتج ہوگی: ایران

عراقی ریڈیو ٹی وی یونین کے سربراہ حمید الحسینی نے بدھ کو ارنا کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ عراق میں امریکا شکست سے دوچار ہو چکا ہے

جمعرات, اپریل 02, 2020 10:43

مزید
دوست اور دشمن سے ملنے کا طریقہ

دوست اور دشمن سے ملنے کا طریقہ

آپ دیکھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد تاریخ اسلام کے سب سے بڑے مرد حضرت امیر علیہ السلام نے اپنی حکومت کے دوران جن کی حکومت کی وسعت کافی بڑی تھی اپنے لوگوں سے کتنا اچھا برتاو رکھا تھا ان کی اتنی بڑی حکومت میں کوئی بھوکا شخص نہیں تھا انہوں نے اپنی ذاتی زندگی بڑی سادگی سے بسر کی وہ ایک ملک کے سربراہ ہونے کے باوجود بھی سادہ کھانا کھاتے تھے اور لوگوں سے کس قدر پیار اور محبت سے ملتے تھے اور رات کی تاریکی میں اپنے کاندھوں پر کھانا اُٹھا کر غریب اور یتیم بچوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جب کہ حضرت کا یہ عمل ان کی شہادت کے بعد معلوم ہوا کہ امیر علیہ السلام اتنی بڑی مملکت کے سربراہ ہونے کہ باوجود رات کی تاریکی میں خود غریب اور یتیم بچوں کے درمیان کھانا تقسیم کرتے تھے۔

پير, مارچ 30, 2020 11:08

مزید
عالمی طاقتیں اسلام سے کیوں ڈرتی ہیں؟

عالمی طاقتیں اسلام سے کیوں ڈرتی ہیں؟

اگر ہم اہل ولایت ہیں تو ہمیں خاموشی سے نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ ہمیں اسلام کا دفاع کرنا چاہیے

پير, مارچ 23, 2020 06:17

مزید
بعثت کا حقیقی مفہوم

بعثت کا حقیقی مفہوم

بعثت رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کئی اہداف و مقصد بیان کیے جاتے ہیں

پير, مارچ 23, 2020 03:26

مزید
شہید اور شہادت امام خمینی (رہ) کی عرفانی نگاہ میں

شہید اور شہادت امام خمینی (رہ) کی عرفانی نگاہ میں

امام خمینی (رہ) کی نگاہ میں شہادت کا اصلی اور بنیادی جوہر خدا سے عشق ہے لہذا لقاء اللہ کے شوق و اشتیاق سے ہٹ کر کوئی اور چیز نہیں ہے۔ محبوب حقیقی سے عشق و محبت تمام چیزوں کو مٹا دیتی ہے اس سلسلہ میں امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں: تمام مشکلات کا حل عشق الہی ہے، رضاکار و فدائی افراد ایثار و خلوص اور خداوندمتعال کی ذات مقدس سے عشق و محبت کا مصداق کامل ہیں، اور شہداء شہدِ شہادت نوش کرنے والے حقیقی محبّ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عشق الہی اور راہ معشوق میں شہید ہونے کے درمیان کیسا رابطہ ہے؟ روایات میں لفظ عشق تین بار ذکر ہوا ہے: ایک مرتبہ اس روایت " أفضلُ الناسِ مَن عَشِقَ العِباده فعانَقَها، میں ذکر ہوا ہے۔ دوسرے مقام پر سرزمین کربلا سے گزرتے وقت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی زبانی بیان ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اس سرزمین کے بارے میں آپؑ نے فرمایا: قُتِلَ فیها مِائَتَا نبی و مِائَتَا سِبْطٍ کُلُّهم شُهداءُ و مُناخُ رِکابٍ و مَصارِعُ عُشّاقٍ شُهداءَ " اور تیسرے مقام پر مشہور و معروف حدیث قدسی میں ذکر ہوا ہے: من طلبنی وجدنی من وجدنی عرفنی و من عرفنی احبنی و من احبنی عشقنی و من عشقنی عشقته و من عشقته قتلته و من قتلته فعلی دیته و من علی دیته فأنا دیته "۔ مذکورہ حدیث میں حسب ذیل عشق الہی اور سیر و سلوک کے عرفانی مراحل کو بیان کیا گیا ہے: طلب و تڑ

بدھ, مارچ 11, 2020 11:53

مزید
Page 26 From 58 < Previous | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | Next >