قرآن مجید اس طرح نازل ہوا ہے کہ ہر شخص اپنے ادراک و معارف میں کمال و ضعف کے درجہ کے مطابق اپنے علم سے استفادہ کرتا ہے.
اتوار, اگست 24, 2014 01:12
حقیقتــا، کس قدر کم ظرفی کی علامت ہے کہ جو دو یا تین لفظی اصطلاح رٹنےکے باعث جو شیطانی ثمرات سے پـر شدہ ہے، انسان خود کو کهو بیٹهے اور عجب وتکبر اسے احاطہ کرلے!
اتوار, اگست 17, 2014 06:59
عقلمندانہ شجاعت اور ہے اور غفلت و عدم واقفیت کی بے خوفی کچه اور
پير, مارچ 17, 2014 12:23