حج

اگرجان بوجھ کرمغرب کے شرعی وقت سے پہلے عرفات سے چلاجائے اوراس کے حدود سے خارج ہوجائے تو کیا اس کا حج باطل ہے؟

تحریر الوسیلہ، ج 2، ص 148

سوال: اگر جان بوجھ کرمغرب کے شرعی وقت سے پہلے عرفات سے چلا جائے اوراس کے حدود سے خارج ہوجائے تو کیا اس کا حج باطل ہے؟

جواب: اگر جان بوجھ کرمغرب کے شرعی وقت سے پہلے عرفات سے چلا جائے اوراس کے حدود سے خارج ہوجائے اورپھرواپس نہ آئے تواس پر ایک اونٹ کا کفارہ ہوگااسے جس جگہ چاہے اللہ کے لئے ذبح کرے۔ البتہ احوط یہ ہے کہ مکہ میں  یہ قربانی کر ے ۔اگراونٹ لینے پر قادر نہ ہو تو اٹھارہ روزے رکھے اوربہتر احوط یہ ہے کہ ان روزوں  کے درمیان فاصلہ نہ ڈالے ۔ اگربھول کر عرفات سے چلاجائے اوربعد میں  یاد آجائے تواس پرواپس واجب ہے ۔پس اگرواپس نہ آئے توگناہگار ہے اوراس پرکفارہ نہیں ہے اگرچہ احوط یہ ہے (کہ کفارہ سے) حکم نہ جاننے والا بھول جانے والے کے حکم میں  ہے ۔اگروقوف کاوقت گزرجانے تک یاد آئے تواس پر کچھ واجب نہیں  ہوگا۔

تحریر الوسیلہ، ج 2، ص 148

ای میل کریں