حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے حوزہ علمیہ کے استاد حجت الاسلام والمسلمین احمدی قمی نے کہا: بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا اور ان سے کہا: آپ اور آپ کا پروردگار جا کر جنگ کریں، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کی: پروردگارا! مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں۔ پس ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "ان پر چالیس سال تک سکون حرام کر دیا گیا ہے اور وہ بیابانِ تیہ میں سرگرداں رہیں گے۔ پس اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو"۔
انہوں نے مزید کہا: تاریخ کا یہی واقعہ صدرِ اسلام میں امام علی علیہ السلام کے ساتھ بھی پیش آیا۔ بے وفا لوگوں نے امام علی علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا اور آپ کے ساتھ صرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رہ گئیں۔ اس وقت بھی ظالموں نے کہا: حق آپ کے ساتھ ہے، آپ جائیے اور جنگ کیجیے، اگر آپ کامیاب ہوگئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا: حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ساتھ لے کر گھر گھر تشریف لے جاتے اور لوگوں سے حمایت طلب کرتے تھے۔ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: "پروردگارا! میرے پاس اپنے اور فاطمہ کے سوا کوئی نہیں"۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنایا کہ "وہ اس قوم سے ناراض ہیں"۔ امام علی علیہ السلام نے عرض کیا": پروردگارا! مجھے ان لوگوں سے نجات دے"۔ بالآخر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دعا کی کہ پروردگارا! میری وفات جلد واقع ہو۔
اس طرح بنی اسرائیل پر سکون اور اتحاد حرام ہوگیا، وہ زمین میں سرگرداں ہوگئے اور امت کی وادیِ تیہ اور غیبت کا دور شروع ہوا، جس میں انسانیت آج بھی حیران و سرگرداں ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ انسانیت کی اس حیرت و سرگردانی سے نجات کا واحد راستہ پیغامِ فاطمیہ پر لبیک کہنا اور حجتِ خدا کے خیمے کی طرف پلٹنا ہے۔ امام کی معرفت کا راستہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ ہم سب کو امام کی شناخت کے لیے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے توسل کرنا چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگرچہ تمام لوگ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے غافل نہیں ہوئے تھے، لیکن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے حقیقت اور ولایت کی حقانیت کو پہچاننے کے لیے جو عملی نمونہ پیش کیا، اس کے ذریعہ لوگوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کو اپنی آنکھوں سے مجسم صورت میں دیکھا۔
حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا: آج بھی تمام لوگ اپنے امام کو فراموش نہیں کرچکے ہیں۔ ایامِ فاطمیہ کے موقع پر، راتوں کی تنہائی میں سجدوں کے دوران اور دن کے ہنگاموں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے امام سے دور نہیں ہیں جبکہ امام سے غافل مسلمان حیرت و گمراہی، بے خبری اور غفلت کے بیابانوں میں سرگرداں ہیں۔
انہوں نے کہا: امام شناسی اور ولایت مداری کا راستہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت سے گزرتا ہے۔ اس سلسلے میں ان روایات کی اہمیت بھی واضح ہے جن کی سند مضبوط ہے اور جو نظامِ خلقت میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے اور بارگاہِ الٰہی میں ان کی منزلت کو بیان کرتی ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ہمیں دکھایا کہ ہر دور میں جو لوگ کسی بھی بہانے سے اپنے امام کی حمایت میں شک و تردید کا شکار ہوتے ہیں، وہی ظہورِ امام کے دور میں بھی اپنے امام کی نصرت سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ خواہشاتِ نفس، مال و دولت اور عارضی دنیاوی عہدوں و مقام کی خاطر اپنے امام کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔