امام خمینی

حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار کرنے کی سزا

نعمان بن حارث فھری مدینے کا وہ پہلا شخص تھا جس نے علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار اور اسے اپنے اس عمل کی سزا بھی ملی ولایت علی کے انکار کی وجہ سے پروردگار نے اس پر عذاب نازل کیا اور آسمان سے پتھر نازل جو اس کے سر پر لگا جس سے اس کے بدن کے دوحصے ہو گئے ہجرت کت دسویں سال جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپبی زندگی کا آخری حج انجام دے کر سرزمین غدیر خم پر پہنچے تو اللہ کی طرف سے جبرائیل نازل ہوے اور حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو اپنا جانشین معین کرو۔

حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار کرنے کی سزا

نعمان بن حارث فھری مدینے کا  وہ پہلا شخص تھا جس نے علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار اور اسے اپنے اس عمل کی سزا بھی ملی ولایت علی کے انکار کی وجہ سے پروردگار نے اس پر عذاب نازل کیا اور آسمان سے پتھر نازل جو اس کے سر پر لگا جس سے اس کے بدن کے دوحصے ہو گئے ہجرت کت دسویں سال جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپبی زندگی کا آخری حج انجام دے کر سرزمین غدیر خم پر پہنچے تو اللہ کی طرف سے جبرائیل نازل ہوے اور حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو اپنا جانشین معین کرو۔

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نعمان بن حارث فھری مدینے کا  وہ پہلا شخص تھا جس نے علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار اور اسے اپنے اس عمل کی سزا بھی ملی ولایت علی کے انکار کی وجہ سے پروردگار نے اس پر عذاب نازل کیا اور آسمان سے پتھر نازل جو اس کے سر پر لگا جس سے اس کے بدن کے دوحصے ہو گئے ہجرت کت دسویں سال جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپبی زندگی کا آخری حج انجام دے کر سرزمین غدیر خم پر پہنچے تو اللہ کی طرف سے جبرائیل نازل ہوے اور حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو اپنا جانشین معین کرو۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی تپتے ہوے ریگستان میں لوگوں کو جمو کرنے کا حکم دیا اور اونٹ کے کجاوے سے ایک منبر بنایا اس کے بعد رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر گئے اور علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا اور امیر المومنین کا دست مبارک پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا اے لوگو جان لو جس کا میں مولا اور ولی آج اس کے علی بھی اس کے مولا اور ولی ہیں اس کے بعد علی علیہ السلام کے فضائیل بیان کئے۔

اس کے بعد رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام سے خلیفہ اور جانشین کے عنوان سے بیعت کریں لیکن جیب یہ قافلہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو یہ خبر پورے شہر میں پھیل گی تو نعمان بن حارث فہری نے سب سے پہلے اپنی دشمنی کا اظہار کیا وہ شخص رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ آپ نے کہا واحدانیت پروردگار کی گواہی دو ہم نے مان لیا آپ نے کہا میں اللہ کا نبی ہوں ہم نے مان لیا آپ نے کہا نماز، روزہ۔ حج۔ خمس، زکات کا حکم دیا ہم نے مان لیا لیکن اب آپ اپنے چچازاد بھائی اور اپنے داماد کو اپنا جانشین بنا رہے ہیں کیا یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے یا پروردگار کا حکم ہے ۔

خاتم الانبیاء اس شخص کی طرف متوجہ ہوے اور فرمایا اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ اللہ تعالی کا حکم تھا نعمان یہ جواب سنتے ہی اپنے اونٹ پر بیٹھا اور اس نے کہا کہ خدایا اگر یہ تمہارا حکم ہے تو ابھی آسمان سے مریے سر پر ایک پتھر مار کر مجھے ہلاک کر دو فورا ہی آسمان سے ایک پتھر نازل ہوا اور  نعمان بن حارث سب کے سامنے  ہلاک ہو گیا۔

ای میل کریں