حج

جمار (شیطانوں) کی رمی میں کتنے امور واجب ہیں؟

تحریر الوسیلہ، ج 2، ص 153

سوال: جمار (شیطانوں ) کی رمی میں  کتنے امور  واجب ہیں؟

جواب: جمار (شیطانوں ) کی رمی میں  کچھ امور واجب ہیں:

اول :  دوسری عبادات کی طرح اللہ تعالیٰ کے لئے خالص نیت کرنا ۔

دوم :  اس طرح پھینکنا کہ اسے رمی (کنکریاں  مارنا)کہاجاسکے ۔پس اگرکنکری کوہاتھ میں  پکڑ کرجمرہ پر رکھ دے توکافی نہیں  ہے ۔             

سوم : اپنے ہاتھ سے پھینکنا ۔ پس اگر پیر سے پھینکے توکافی نہیں  ہوگا۔احوط یہ ہے کہ رمی غلیل کی طرح کے کسی آلے کے ذریعے نہ ہواگر چہ اس کا جائز  ہونا بعید نہیں  ہے۔

چہارم : کنکریوں  کاجمرہ تک پہنچ جانا،پس اگرجمر ہ پر نہ لگے تواسے شمار نہیں  کیاجائے گا۔

پنجم : کنکریوں  کاجمرہ تک پہنچنا رمی کے ذریعے ہو ۔ پس اگر صحیح طریقے سے رمی نہ کرے (لیکن) پھینکنے والے کے علاوہ کسی اورانسان کا یا حیوان کی حرکت اس میں  شامل ہوجائے (اوراس وجہ سے جمرہ تک پہنچ جائے) توکافی نہ ہوگا۔ہاں  اگر کسی نے رمی کی ہو اور کنکری کسی پتھر یااسی طرح کی کسی اورچیز سے ٹکرائی ہو اور وہاں  سے اٹھ کرجمرہ تک پہنچی ہو تو صحیح ہے ۔

ششم : کنکریوں  کی تعداد کاساتھ ہونا۔

ہفتم : کنکریوں  کوایک ایک کرکے مارنا ۔پس ایک ساتھ ماردے توایک شمار کی جائے گی چاہے جمرہ تک یکے بعد دیگر ے پہنچے جیسا کہ اگرایک ایک کرکے پھینکاہو تو صحیح ہے چاہے اکھٹے جمرہ تک پہنچیں  ۔

تحریر الوسیلہ، ج 2، ص 153

ای میل کریں