اعتکاف

کیا اگر کوئی شخص پانچ دن اعتکاف میں بیٹھے تو چھٹا دن اس کے لئے واجب ہوجائے گا؟

ضروری ہے کہ اعتکاف تین دن اوران کے درمیان کی راتوں سے کم ترعرصے کا نہ ہو

سوال:  کیا اگر کوئی شخص پانچ دن اعتکاف میں  بیٹھے تو چھٹا دن اس کے لئے واجب ہوجائے گا؟

جواب : ضروری ہے کہ اعتکاف تین دن اوران کے درمیان کی راتوں  سے کم ترعرصے کا نہ ہو، البتّہ اس عرصے سے زیادہ ہونے میں  کوئی حرج نہیں  اور اس کی کوئی حد معیّن نہیں  ہے البتّہ ہر دو دن گزرنے کے بعد تیسرا دن واجب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص پانچ دن اعتکاف میں  بیٹھے تو چھٹا دن اس کے لئے واجب ہوجائے گا اور اگر آٹھ روز اعتکاف میں  رہے تو احتیاط واجب کی بناء پر نواں  دن اس کے لئے واجب ہے اور اس کے ما بعد بھی یہی صورت ہوگی اور دن کی مدّت طلوع فجر سے لے کر مشرق کی سرخی ختم ہونے تک ہے لہٰذا اگر کوئی (پہلے دن) طلوع فجر سے لے کر تیسرے دن غروب تک اعتکاف میں  رہے تو کافی ہے اور پہلی اور چوتھی رات کو اعتکاف میں  شامل کرنا ضروری نہیں  ہے، اگر چہ جائز ہے۔ نیز تلفیق کی صورت میں  تین دن کا اعتکاف صحیح و کافی ہونے میں  تامل اور اشکال ہے اور تلفیق سے مراد یہ ہے کہ روز اوّل سے زوال شروع ہو اور چوتھے روز زوال تک رہے۔

 

تحریر الوسیلہ، ج 1، ص 338

ای میل کریں