نماز

کن جگہوں پر نماز پڑھنا باطل ہے؟

ہر جگہ نماز پڑھنا جائز ہے مگر یہ کہ اصل جگہ یا اس کی منفعت غصبی ہو اور وہ چیز ...

سوال: کن جگہوں پر نماز پڑھنا باطل ہے؟

جواب: ہر جگہ نماز پڑھنا جائز ہے مگر یہ کہ اصل جگہ یا اس کی منفعت غصبی ہو اور وہ چیز بھی غصب کے حکم میں  ہے جس میں  کسی اور کا حق ہو مثلا وہ شئی جسے رہن پر رکھا گیا ہواور اس چیز میں  میت کا حق شامل ہو جب کہ میت نے ایک تہائی ۳؍۱حصے کی وصیت کی ہو اور ابھی تک (اصل ) تر کہ سے جدا نہ کیاگیا ہو بلکہ ہر وہ چیز جس میں  حق تقدم حاصل ہوجائے مثلااگر کوئی شخص دوسروں  سے پہلے مسجد یا نماز کے لئے کسی اور جگہ کو اختیار کر لے جب کہ اسے ترک بھی نہ کرے تو احتیاط واجب کی بناء پر (اگر کوئی اور شخص اس جگہ کو لینا چاہے گا ) تو وہ غصب کے حکم میں  ہے اور غصبی جگہ پر نماز پڑھنااس وقت باطل ہے کہ جب نمازی کو اس کے غصب ہونے کا علم ہو اور وہ اختیار بھی رکھتا ہو اس لحاظ سے واجب اور مستحب نماز میں  کوئی فرق نہیں  ہے۔ لیکن وہ شخص جس کو غصب ہونے کا علم نہیں  ہے اور وہ شخص کہ جو نا چاری کی حالت میں   ہے نیز وہ شخص جسے وہاں  پر نا حق قید کر دیا گیا ہو تو  ان کے لئے ایسی حالت میں  وہاں  پر نماز پڑھنا  صحیح ہے اسی طرح وہ شخص جو غصب ہونے کو بھول جائے اور نمازپڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے مگر یہ کہ اس نے خود اس جگہ کو غصب کر رکھا ہو اور پھر بھو ل جا ئے تو احتیاط واجب کی بناء پر اس کی نماز باطل ہے اور مضطر شخص کی نما ز( غصبی جگہ میں  )قیام ، رکوع اور سجود کے لحاظ سے غیر مضطر شٰخص کی طرح ہے ۔

ای میل کریں