سالار شہیدان امام حسین علیہ السلام کی باسعادت ولادت

رسول اللہ: تمہاری سعادت و شقاوت "حسین" کے ساتھ تمہارے روئیے پر منحصر ہے؛ آگاہ ہو جاؤ کہ حسین جنت کا ایک دروازہ ہے جو بھی اس سے دشمنی کرےگا، خدا اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دےگا۔

ID: 47291 | Date: 2017/05/02

رسول اللہ: تمہاری سعادت و شقاوت "حسین" کے ساتھ تمہارے روئیے پر منحصر ہے؛ آگاہ ہو جاؤ کہ حسین جنت کا ایک دروازہ ہے جو بھی اس سے دشمنی کرےگا، خدا اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دےگا۔


ولادت با سعادت حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام مدینہ منورہ میں ہجرت کے چوتھے سال تین شعبان کو ہوۓ؛ اگرچہ آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن قول مشہور یہ ہےکہ آپ، تین شعبان ہجرت کے چوتھے سال میں پیدا ہوۓ۔


ولادت کے بعد آپ کو آپ کے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس لایا گيا؛ آپ کو دیکھ کر رسول اکرم (ص) مسرور و شادمان ہو‌ۓ؛ آپ کے دائيں کان میں اذان کہی اور بائيں کان میں اقامت؛ ولادت کے ساتویں دن ایک گوسفند کی قربانی کرکے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ جناب صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا: " بچے کا سر مونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دو"۔



امام حسین علیہ السلام نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ، اپنے جد امجد رسول اللہ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کے ساتھ گزارا؛ امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد، آپ کی امامت کی مدت دس برسوں پر مشتمل ہے۔


روایات میں آیا ہےکہ سبطین علیھما السلام کے اسماء مبارکہ کا انتخاب خود رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے اور یہ نام خدا کے حکم سے رکھے گئے ہیں۔


حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہےکہ آپ نے فرمایا: جب حسن کی ولادت ہوئی تو میں نے اس کا نام اپنے عم محترم حمزہ کے نام پر رکھا اور جب حسین پیدا ہوۓ تو اس کا نام اپنے دوسرے چچا جعفر کے نام پر رکھا۔ ایک دن رسول اکرم (ص) نے مجھے طلب فرمایا اور کہا: مجھےخداوند نے حکم دیا ہےکہ ان دونوں بچوں کے نام بدل دوں اور آج سے ان کے نام " حسن " اور " حسین " ہونگے۔


ایک اور روایت میں ہےکہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا: میں نے اپنے بچوں حسن و حسین کے نام فرزندان ہارون کے ناموں پر رکھے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو شبر و شبیر کہتے تھے اور میں نے اپنے بچوں کے نام اسی معنی میں، عربی میں " حسن و حسین " رکھے ہیں۔


اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ جب حسین بن علی کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ تشریف لاۓ اور فرمایا: اسماء میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ۔ میں نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اللہ کی گود میں دیا۔ آپ نے بچے کے دائيں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ایسے عالم میں جب آپ حسین [علیہ السلام] کو گود میں لیے ہوۓ تھے گریہ بھی فرما رہے تھے!


میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے گرئیے کا کیا سبب ہے؟


آپ نے فرمایا: میں اس بچے کےلیے گریہ کر رہا ہوں!


میں نے کہا: یہ بچہ تو ابھی پیدا ہوا ہے، پس گریہ کیسا؟


فرمایا: ہاں اسماء! ایک سرکش گروہ اس کو قتل کرےگا، خدا انہیں میری شفاعت سے محروم کرے۔


اس کے بعد آپ نے فرمایا: یہ بات فاطمہ کو مت بتانا ابھی اس کے بچے کی ولادت ہوئی ہے۔


حضرت امیرالمؤمنین کا صفین جاتے ہوۓ گزر کربلا سے ہوا۔ آپ وہاں کچھ دیر کےلیے رکے اور اس قدر گریہ کیا کہ زمین آپ کے آنسووں سے تر ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: ایک دن ہم رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ آپ گریہ فرما رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟ رسول اللہ نے فرمایا: ابھی ابھی جبرئيل آۓ تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا " حسین " دریاۓ فرات کے کنارے، کربلاء نامی زمین پر مارا جاۓگا اور جبرئيل مجھے سنگھانے کےلیے کربلا کی ایک مٹھی خاک لےکر آۓ تھے، جسے دیکھ کر میں گرئیے پر ضبط نہ کر سکا۔


اس کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: یہیں ان کا پڑاؤ ہوگا یہاں ان کا خون بہایا جاۓگا اور آل محمد کے بعض لوگ اس صحرا میں قتل کیے جائيں گے جن کے حال پر زمیں و آسماں گریہ کریں گے۔


متعدد روایات میں وارد ہوا ہےکہ حضرت امام حسین علیہ السلام رسول اللہ (ص) سے سب سے زیادہ شباہت رکھتے تھے۔ اصحاب نے اس بات کا ذکر امام حسین علیہ السلام کی صورت و سی