علی کو شدت عدالت کی وجہ سے شہید کردیا گیا

امام علیہ السلام کو جب ضربت کا احساس ہوا، فرمانے لگے: بسم اللّہ و باللّہ و علی ملۃ رسول اللّہ، فزت برب الکعبہ۔

ID: 47950 | Date: 2017/06/13

امام علیہ السلام کو جب ضربت کا احساس ہوا، فرمانے لگے: بسم اللّہ و باللّہ و علی ملۃ رسول اللّہ، فزت برب الکعبہ۔


امیرالمومنین علی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک منفرد خصوصیت، جو نہ اس سے پہلے کسی کو یہ شرف نصیب ہوا اور نہ اس کا بعد ہوگا، آپ کی خانہ کعبہ کے اندر ولادت ہے۔ یہ کرامت اور معجزہ الہی ہے جو ذات احدیت نے دنیا کو دکھایا وہ بھی دروازے سے نہیں بلکہ خانہ کعبہ کی دیوار کو شق کرکے آپ کی والدہ کو اندر بلایا اور عمل ولادت خانہ الہی کے اندر انجام پایا۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہےکہ خدا کی خاص عنایات آپ کے اوپر تھی۔


خدا کی ایک سب سے بڑی موہبت اور نعمت جو آپ کو نصیب ہوئی وہ یہ تھی کہ علی علیہ السلام ابھی دس سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ کی تربیت اور تزکیہ کا وظیفہ پیغمبر اکرم نے اٹھایا۔ رسول اعظم نے اپنے خلق خو اور اپنی بزرگواری اور بڑھائی کے ذریعے آپ کی تربیت شروع کی اور کسی بھی حالت میں رسول خدا، آپ کو اپنے سے جدا نہیں کرتے تھے۔


(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید؛ ج١ ص١٤)



برہان الدین حلبی شافعی حضرت سلمان فارسی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اعظم نے فرمایا: میری امت میں سب سے پہلے وہ شخص حوض (کوثر) پر آئےگا جس نے سب سے پہلے ایمان لایا ہو؛ یعنی علی[ع]؛ اور حضور نے ایک بات اس وقت کہی جب حضرت علی علیہ السلام کی شادی حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے ہوچکی تھی؛ پیغمبر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا: تمہارا شوہر دنیا و آخرت میں تمام لوگوں کا سردار ہے کیوںکہ وہ اصحاب میں سے پہلا فرد ہے جو مجھ پر ایمان لائے۔


(السیرۃ الحلبیہ، ج١، ص٢٦٨)


مولا علی علیہ السلام جس دن سے پیغمبر اکرم کی زیر سرپرستی میں گئے اسی دن کے بعد سے لےکر شہادت کی رات تک کسی بھی وقت اور کسی بھی لمحہ دفاع از رسالت اور دین الہی سے پیچھے نہیں ہٹے۔


تاریخ میں ملتا ہےکہ پیغمبر اکرم بہت جگہ تصدیق بلکہ عملاً مولا علی کی ولایت اور جانشینی کا اعلان فرماتے رہے۔ ہجرت سے لےکر غدیر تک تاریخ کے اوراق پیغمبر خدا کی حدیثوں سے بھری ہوئی ہیں جن میں آپ کی ولایت کا اعلان اور آپ سے محبت کی قدر و منزلت اور آپ کے دفاع اور پیروی کا حکم ملتا رہا؛ مگر تاریخ اسلام کا سب سے تاریخی واقعہ ١٨ ذی الحجہ دس ہجری کے دن غدیر کے میدان میں رونما ہوا۔


امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام رمضان المبارک میں شہید ہوئے۔ آپ کو اپنی شہادت کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور ہمیشہ خدا سے طالب شہادت تھے؛ منقول ہےکہ آپ فرماتے تھے: مجھے عار ہے کہ بستر پر نیند کی حالت میں موت آئے۔ البتہ آپ کو رسول خدا نے پہلے ہی شہادت سے مطلع فرمایا تھا۔


ایک روایت ہےکہ اللہ کے رسول نے فرمایا: یاعلی میرے بعد تیس سال زندگی کروگے، ان سالوں میں تم پر جو ظلم و ستم ہو ان پہ صبر کرنا اور آخر میں شہید ہوجاؤگے اور تمہارا قاتل کا بھی حضرت صالح کی ناقہ کو قتل کرنے والوں کی ردیف میں اور دشمنان خدا میں شمار ہوگا۔


علی [ع] نے سوال کیا: یا رسول اللہ جب میں شہید کیا جاؤں گا تو آیا میرا دین سالم ہوگا؟


فرمایا: جی ہاں تمہارا دین سالم ہوگا۔


حضرت علی علیہ السلام کی اس مختصر خلافت میں تین جنگیں ہوئیں، جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ