اعتدال، صراط مستقیم اور طریقت کا دوسرا نام ہے: امام خمینی(رح)

اعتدال، صراط مستقیم اور طریقت کا دوسرا نام ہے: امام خمینی(رح)

حقیقی اعتدال، انسان کامل کے علاوہ کسی اور کے لئے بطور کامل ممکن نہیں ہے اور وہ اپنا حقیقی معنی خط احمدی(ص) اور خط محمدی(ص) میں پیدا کرتا ہے اور دیگر تمام افراد اس کی اتباع کرتے ہیں۔

اسلام میں اعتدال اور حد وسط کا نظریہ پائے جانے کے سبب شاید امام خمینی(رہ) کی نگاہ میں عدالت کا سب سے اہم مفہوم طریقت اور اس کی روش ہو۔ یعنی یہ کہ انسان کے لئے کمال کی راہ میں سعادت اور سلوک الی اللہ کی وادی میں قدم زن ہونے کی خاطر عدالت اختیار کرنا ضروری ہوگا اور کمال تک پہنچنے کے لئے اسے اُس وقت اس راہ کا راہی رہنا ہوگا جب تک یہ سفر اس کے وجود کا جزء لا ینفک نہ بن جائے۔

عدالت کی یہ تعریف اور اسے اس نگاہ سے دیکهنا عرفانی زاویہ دید کا نتیجہ ہے جہاں سیر وسلوک پر بهروسہ ہوتا اور عدالت کو انسان کامل کی سیر کا سبب قرار دیتا ہے۔ اس جگہ پر عدالت کو صراط مستقیم کے طور پر دیکها جاتا ہے کہ جہاں سالک الی اللہ خودسازی انجام دیتا تا کہ کمال مطلوب تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس جہت سے اور اس معنی میں اعتدال اور حد وسط بهی مزید واضح ہوتے ہیں۔ امام بزرگوار(رح) نے اس جگہ پر مندرجہ ذیل آیات سے استفادہ کیا ہے: « وَاِنَّ هٰذٰا صِراطى مُستقیماً فَاتَبِعوه»[1]، «اهدِنا الصِّراط المُستقیم.»[2] و....

یہ حدیث نبوی(ص) ملاحظہ فرمائیں: جناب جابر ابن عبد اللہ انصاری(رض) فرماتے ہیں: کُنّٰا جلوساً عند النبى(ص) فَخَطَّ خَطّاً هٰکَذٰا اَمامَهُ؛ فَقٰالَ: هٰذِهِ سَبیلُ اللّه  و خَطَّیْنِ عن یَمینه و خطّیْنِ عن شِماله و قٰال: «هٰذٰا سبیل الشَیطانِ» ثُمَّ وضَعَ یده على الخَطّ الأَوسَطِ وتَلاٰ: وَ اِنَّ هٰذٰا صراطى.[3]

اس زاویہ دید کے مطابق، انسان کے مدنظر حقیقت مطلق اور کمال مطلق ہوتا ہے اور انسان {جو کہ نقطہ آغاز ہے} اور خدا {جو کہ انتہائی ہدف اور آخری منزل ہے} کے درمیان صرف ایک خط قابل تصور ہے کیونکہ دو سے زیادہ نقطے متصور نہیں ہیں۔ نقص اور کمال مطلق یا پهر عبودیت اور ربوبیت۔ یہ ایسی راہ ہے جس کا راہی بننا ہوگا تا کہ کمال مطلق تک توانائی کے مطابق دسترسی پیدا کی جا سکے۔ اس راہ میں کی جانے والی حرکت اعتدال اور عدالت کی راہ میں ہونے والی حرکت ہوگی۔ اسی سبب امام خمینی(رہ) کی نگاہ میں عدالت، انسان کامل کے لئے معبود اور حقیقی سعادت کی راہ میں کی جانے والی سیر کا ذریعہ قرار پاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حد وسط ہونا، متعادل ہونا اور اعتدال کا پایا جانا در حقیقت یہ سب کے سب عدالت کے محور پر ایک ہی چیز ہیں کیونکہ سب صحیح اور صراط مستقیم کی راہ میں حرکت کے مرادف ہیں جہاں انحراف کا تصور بهی نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اگر ربوبیت کے نقطہ آغاز سے قُرب ربوبیت کی انتہائی منزل کو ہم عملی جامہ پہنا کر محسوس کرنا چاہیں تو ضروری ہوگا کہ صراط مستقیم طے کریں۔ لہذا نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کامل کا اپنی عبودیت کے نقص کے ساته، ربوبیت کی اعلی و با عزت اور کمال تک کی سیر عدالت ہے جو کہ خط مستقیم اور اعتدال کے محور پر استوار ہے۔ قرآن حکیم اور احادیث میں جا بجا اس معنی کی جانب اشارہ ہوا ہے لہذا وہ صراط مستقیم جس کی نماز میں ہر مسلمان دعا کرتا ہے اسی اعتدال کی سیر کا دوسرا نام ہے اور یہ جو روایات میں آیا ہے کہ صراط، بال سے زیادہ باریک اور شمشیر سے زیادہ تیز ہے[4] اسی لئے ہے کہ وہاں اعتدال، حقیقتاً حد وسط کا درجہ رکهتا ہے۔[5]

البتہ یہ یاد رکهنا چاہئے کہ عدالت، طریقت کی راہ میں متعدد معنی رکهتا ہے۔ بسا اوقات، ظاہر میں عدالت کی طریقت سے مراد؛ شریعت اور انجام واجبات نیز ترک محرمات ہوتی ہے یعنی یہاں وہی زاویہ دید ہوتا ہے جو فقہ میں عدالت کے سلسلہ میں ہے اور کبهی علم اخلاق والی تعبیر مراد ہوتی ہے جہاں نفس انسانی کے تینوں قوا {شہویہ، غضبیہ اور بہیمیہ} میں اعتدال مراد ہوتی ہے۔ کبهی اعتقادات میں اور کبهی ان سب میں۔ اس کے علاوہ ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ انسانوں میں یہ طریقت مختلف ہے یعنی یہ کہ ایک انسان کا عادل ہونا، دوسرے انسان کے عادل ہونے سے جُدا ہو اور وہ حالات، شرائط اور سالک کی توانائی اور راہی راہ حق کا تابع ہوتا ہے۔ اسی لئے امام خمینی(رح) کی نگاہ میں حقیقی اعتدال اور عدل وعدالت کی مکمل طریقت، اپنے صحیح اور دقیق معنی میں خط احمدی یعنی راہ اسم اعظم خداوندی، پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ سے مخصوص ہے۔ حقیقی اعتدال، انسان کامل کے علاوہ کسی اور کے لئے بطور کامل ممکن نہیں ہے اور وہ اپنا حقیقی معنی خط احمدی(ص) اور خط محمدی(ص) میں پیدا کرتا ہے اور دیگر تمام افراد اس کی اتباع کرتے ہیں۔[6]

نتیجہ نکلا کہ عدالت کی طریقت کے متعدد زاویے ہیں۔ بطور نمونہ امام خمینی(رہ) نے ان میں بعض کی جانب اشارہ کیا ہے:

۱: اہل سیر وسلوک کے لئے عدالت؛ جہاں الہی معارف اس کے قلب میں جلوہ نمائی کرتے ہیں: اس جگہ پر عدالت سے مراد حق سے خلق اور خلق سے حق کی عدم پردہ پوشی۔ دوسرے لفظوں میں کثرت میں وحدت کی رویت اور وحدت میں کثرت۔ یہ اہل اللہ اور انسان کامل سے مخصوص ہے۔[7]

۲: اصول عقائد میں عدالت: اس جگہ عدالت سے مراد حقائق وجودیہ کا علی ما هی علیہ ادراک کرنا۔[8]

۳: اخلاق میں عدالت: اس سے مراد باطنی، ظاہری اور روحی ونفسی قوا کا اعتدال پر قائم ہونا۔[9]

 

[1] انعام(6): 153.

[2] حمد(1): 6.

[3] یعنی ہم پیغمبر اعظم ص کے پاس بیٹهے ہوئے تهے ،آنحضرت نے اپنے پاس ایک سیدها خط کهینچا اور فرمایا:یہ راہ خدا ہے ،اس کے بعد آپ نے دو دو خط دائیں اور بائیں جانب کهینچا اور اس کے بعد فرمایایہ شیطان کے راستے ہیں ۔اس کے بعد حضّر نے اپنا دست مبارک وسط کے خط پر رکهتے اس آیت کی تلاوت کی۔ جلال الدین سیوطى، تفسیر الدرر المنثور، قم: مکتبة آیت‏اللّه‏ المرعشى، 1404 ق.، ج 3، ص 56، این روایت به صورتهاى دیگر از ابن مسعود و دیگران نقل شده است.

[4] پیامبرص «الصِراطُ ادَقَ مِنَ الشِّعر و اَحَدُّ مِنَ السَیْفِ و اَظلم مِن اللَیل»، محسن فیض کاشانى، علم الیقین، قم: انتشارات بیدار، ج 2، 1358، ص 969؛ بحارالانوار، ج 8، ص 65 و مواضع دیگر.

[5] شرح حدیث جنود عقل و جهل، ص 152.

[6] ایضاً، صص 152ـ153.

[7] ایضاً، ص 148.

[8]) ایضاً، ص 148.

[9] ایضاً، ص 151

ماخذ: امام خمینی(رح) پورٹل

ای میل کریں