ایران میں بے گناہ طلبہ پر بمباری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہے

ٹالاریکو نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اس بات پر زور دیا کہ وہ خود کو ایک کامل مسیحی نہیں سمجھتے اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کرتے ہیں

ID: 87995 | Date: 2026/11/08

ابنا کے مطابق، امریکہ کی ریاست ٹیکساس سے منتخب ہونے والے 37 سالہ سینیٹر جیمی ٹالاریکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں، جو انہوں نے فاکس نیوز کے ایک ریڈیو انٹرویو میں دیا تھا، کہا کہ ایران میں بے گناہ طلبہ پر بمباری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہے۔ ٹرمپ نے اس گفتگو میں ٹالاریکو پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔


 


ٹرمپ نے اس انٹرویو میں ٹالاریکو کو نام نہاد ’’ووک‘‘ نظریات سے شدید متاثر قرار دیتے ہوئے انہیں انتہائی نااہل بھی کہا تھا۔


 


ٹالاریکو نے ان الزامات کے جواب میں کہا: ’’امریکہ کے صدر نے کہا ہے کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کیا ہے؟ ارب پتیوں کے ٹیکس کم کرتے ہوئے بیمار افراد کو علاج معالجے کی سہولیات سے محروم کرنا، تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنا اور بچوں کو ان کی ماؤں سے جدا کرنا۔‘‘


 


انہوں نے امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی اور ایران کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کیا ہے؟ ایران میں بے گناہ طلبہ پر بمباری کرنا اور اپنے بہادر مردوں اور عورتوں کو ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں موت کے منہ میں دھکیلنا۔


 


اس ڈیموکریٹ سیاست دان نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق ٹرمپ حکومت کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی اور کہا: ’’ایپسٹین کیس کی فائلوں پر پردہ ڈالنا اور ان میں نام آنے والے افراد میں سے کسی ایک کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا نہ کروانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہے۔


 


ٹالاریکو نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اس بات پر زور دیا کہ وہ خود کو ایک کامل مسیحی نہیں سمجھتے اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’صرف ایک کامل مسیحی تھا اور اسے دو ہزار سال پہلے صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔


 


انہوں نے مسیحیت کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ اپنے پڑوسیوں سے اسی طرح محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے کرتے ہو۔ کیا ہم جنت میں جنگ، تعصب، امتیازی سلوک یا غربت کا تصور کر سکتے ہیں؟ تو پھر ہم زمین پر ان مسائل کو کیوں موجود رہنے دیتے ہیں؟


 


37 سالہ جیمی ٹالاریکو، ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے ڈیموکریٹ رکن ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں اس ریاست کے 63 سالہ ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست حاصل کی۔


 


اعلان کردہ نتائج کے مطابق، ٹالاریکو نے 59.2 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیکسٹن کو 39.2 فیصد ووٹ ملے۔ اس کامیابی کے ساتھ 1988 کے بعد پہلی مرتبہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی ایک اور نشست حاصل کی۔


 


اس کامیابی سے قبل ٹالاریکو نے مارچ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں امریکی کانگریس کی رکن جاسمین کروکٹ کو شکست دے کر سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔


 


وہ 2018 سے ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ریپبلکن سیاست دانوں کی جانب سے اپنی پالیسیوں کے جواز میں مسیحیت کی تعلیمات کے استعمال پر تنقید کے بعد انہیں شہرت حاصل ہوئی۔


 


انتخابی مہم کے دوران ٹالاریکو کو ریپبلکنز کی جانب سے بارہا تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں میں ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ان کے جنسی رجحان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔


 


ٹالاریکو، جو 2023 سے بریانا مینارڈ کے ساتھ منگنی میں ہیں، نے پیپل میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان بیانات کو ’’انتہائی پست درجے کی ذاتی توہین‘‘ قرار دیتے ہوئے غیر اہم قرار دیا۔


 


انہوں نے کہا: ’’اگرچہ اس طرح کی توہین کا سامنا کرنا خوشگوار نہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ٹیکساس کے بیشتر لوگ ان حملوں کے پسِ پردہ مقاصد کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ تفرقہ پیدا کرنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی حکمتِ عملی کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایسے سنجیدہ رہنماؤں کے منتظر ہیں جو بالآخر ان کے مسائل پر حقیقی معنوں میں بات کریں، کیونکہ سیاست سیاست دانوں کے بارے میں نہیں بلکہ عوام کے بارے میں ہوتی ہے۔