عزم اور زخم کی دو تصویریں

نیویارک کی روشن عمارتوں کے درمیان اقوام متحدہ کا وہ ایوان دنیا بھر کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا

ID: 87476 | Date: 2026/09/26

تحریر: مجتبیٰ علی شجاعی


 


نیویارک کی روشن عمارتوں کے درمیان اقوام متحدہ کا وہ ایوان دنیا بھر کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ بڑے بڑے ملکوں کے سربراہان اپنی بات کہہ رہے تھے، طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کی وضاحت کر رہی تھیں اور دنیا ایک بار پھر جنگ، امن، سفارت کاری اور عالمی طاقت کے سوالوں میں الجھی ہوئی تھی۔ لیکن جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اس عالمی فورم پر کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ صرف ایک تقریر نہیں تھی، بلکہ ان کے ساتھ چند تصویریں تھیں، جن میں پوری انسانیت بالخصوص ایرانی قوم کا درد سمٹا ہوا تھا۔ ایک طرف شہید رہبر حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کی وہ تصویر جو کروڑوں لوگوں کی دھڑکن، عقیدت اور امید کی علامت بن چکی تھی اور دوسری طرف شجرہ طیبہ میناب کے ان معصوم اسکولی بچوں کی وہ تصاویر جن میں پوری انسانیت بالعموم اور بالخصوص ایرانی غیور قوم کا درد، غم اور سوال سمٹا ہوا تھا۔


 


یہ منظر چند لمحوں کا تھا، لیکن اس میں ایران کے پورے دکھ، غصے اور عزم کی ایک طویل داستان سمٹ آئی تھی۔ پزشکیان کے ہاتھ میں بلند ہونے والی رہبر شہید کی تصویر ایران کے لیے محض ایک شخص کی تصویر نہیں تھی۔ وہ ایک ایسے نظام اور ایک ایسی سیاسی شناخت کی علامت تھی، جسے ایران کئی دہائیوں سے اپنی خود مختاری اور مزاحمت کے ساتھ جوڑتا آیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی نے اس سیاسی نظام کی قیادت کو نشانہ بنایا، لیکن تہران نے اسے کبھی اپنی شکست نہیں سمجھا بلکہ بلند و بالا حوصلوں، غیر متزلزل عزم اور ثابت قدمی کی ایک ایسی داستان سمجھا، جو مشکل ترین حالات میں بھی سر اٹھا کر کھڑے رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسی احساس کو اقوام متحدہ کے ایوان میں لے جاکر دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کسی قوم کے رہبر کو نشانہ بنا دینا اس قوم کے ارادے کو ختم نہیں کرتا۔


 


عمارتیں گرائی جاسکتی ہیں، فوجی مراکز تباہ کیے جاسکتے ہیں، قیادت کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، لیکن ایک قوم کے اندر موجود خود مختاری کا احساس صرف بموں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اس منظر کا سب سے دردناک حصہ وہ دوسری تصویر تھی، جو شجرہ طیبہ میناب کے ان بچوں کی تھی۔ سپر پاور کے خطرناک ہتھیاروں سے خاک و خون میں غلطاں ہوگئے۔ ایک اسکول، جہاں بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی تھیں، جہاں مستقبل کے خواب پروان چڑھنے تھے، جہاں استاد کی آواز سنائی دینی تھی، وہاں انسانی حقوق کے دعویدار نے کئی خطرناک بم ایک ساتھ گرا کر ان خوابوں کو زمین بوس کیا اور ان معصوم بچیوں کو جو جینے کا حق تھا، وہ ان سے بزور طاقت چھین لیا۔ تاریخ بشریت کا وہ تاریک دن، یعنی 28 فروری 2026ء جن شجرہ طیبہ میناب کے ایک اسکول پر امریکی حملے میں 156 افراد شہید ہوئے ہوئے، جن میں 120 معصوم کلیاں شامل تھیں۔


 


اعداد شاید انسان کو زیادہ دیر تک نہیں رلاتے۔ 156، 120، 100 یا  50 یہ سب اعداد ہیں۔ لیکن جب انہی اعداد کے پیچھے معصوم بچوں کے چہرے نظر آتے ہیں تو کہانی بدل جاتی ہے۔ وہ بچہ جسے صبح ماں نے اسکول کے لیے تیار کیا ہوگا، وہ بچی جس نے شاید اپنی کتاب بستے میں رکھی ہوگی، وہ طالب علم جس نے سوچا ہوگا کہ چند گھنٹوں بعد گھر واپس آنا ہے، اچانک ایک بربریت کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایک نام نہاد سپرپاور کی جانب سے مسلط کئے گئے جنگ کا شکار بن جاتے ہیں۔ جس کا فیصلہ انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ یہی جنگ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس کے فیصلے طاقتور لوگ کرتے ہیں، مگر اس کی قیمت اکثر وہ لوگ ادا کرتے ہیں، جن کے پاس کوئی فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر پزشکیان نے شاید اسی لیے میناب کو نیویارک تک پہنچایا۔ وہ ملبے کا ایک ٹکڑا نہیں لاسکے، ان بچوں کو واپس نہیں لاسکے، ان کے گھروں میں دوبارہ زندگی نہیں لا سکے، لیکن ان کی تصویریں دنیا کے سب سے بڑے سفارتی فورم تک ضرور لے آئے۔


 


یہ تصویر دراصل ایران کا سوال تھا کہ اگر عالمی سیاست میں انسان سب سے اہم ہے تو پھر ایک اسکول میں شہید ہونے والے بچوں کی زندگی کی قیمت کیا ہے۔؟ اگر بین الاقوامی قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس قانون کا اطلاق طاقتور اور کمزور کے درمیان مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے۔؟ یہی وہ سوال ہے، جسے ایران نے جرائت کے ساتھ اپنے انداز میں دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ یہاں ڈاکٹر پزشکیان کی تقریر کا جذباتی پہلو اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ایران دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے دباؤ، پابندیوں اور فوجی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی دنیا کے لیے اپنے ہاتھ بڑھانے اور سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات بھی کی۔ یعنی پیغام یہ تھا کہ ایران جنگ نہیں مانگتا، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی جائے تو وہ اپنی خود مختاری اور وقار کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ یہی شاید اس خطاب کی سب سے اہم بات تھی۔


 


جمہوری اسلامی ایران نے اپنے آپ کو صرف ایک جنگ میں مصروف ملک کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جو اپنے زخم کے باوجود عالمی سیاست کی میز پر کھڑی ہے۔ پزشکیان کے لہجے میں غصہ تھا، لیکن ان کے ہاتھ میں مذاکرات کا راستہ بھی تھا۔ ان کے الفاظ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت احتجاج تھا، لیکن ساتھ ہی دنیا کے ساتھ تعلق اور بات چیت کی خواہش بھی موجود تھی۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں ایرانی سیاست کا ایک بنیادی تصور سامنے آتا ہے کہ بات چیت ہوسکتی ہے، لیکن سر جھکا کر نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے رویئے نے بھی اس منظر کو مزید معنی دیا۔ ڈاکٹر پزشکیان کی تقریر کے آغاز پر امریکی وفد کا ایک اہلکار ایوان سے باہر چلا گیا اور اسرائیلی وفد نے خطاب کا بائیکاٹ کیا۔ یہ واقعہ اپنی جگہ ایک سفارتی علامت بن گیا۔ ایک طرف ایران اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھ رہا تھا اور دوسری طرف اس کے مخالفین نے اس خطاب کو سننے سے گریز کیا۔ درحقیقت یہ ایک تقریر نہیں تھی بلکہ سفارتی محاذ پر کی گئی ایک بھرپور اسٹرائیک تھی۔ اس کے اندر ایک واضع پیغام تھا کہ ایران اپنے زخم کو کمزوری نہیں بننے دے گا۔


 


ایرانی قیادت کے لیے مزاحمت صرف جنگی محاذ پر کھڑے ہونے کا نام نہیں، یہ اپنی سیاسی شناخت، خود مختاری اور فیصلے کرنے کے حق پر قائم رہنے کا تصور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رہبر کی تصویر اور بچوں کی تصاویر کو ایک ساتھ دکھانا ایک بہت سوچا سمجھا سیاسی منظر تھا۔ میناب کے بچوں کی کہانی یہاں سب سے زیادہ دل کو چھوتی ہے۔ ایک قوم کے لیے اس سے بڑھ کر دکھ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے بچے، جو مستقبل کی امید ہوتے ہیں، جنگ کا نشانہ بن جائیں۔ اس پس منظر میں پزشکیان کا ان بچوں کی تصویریں اٹھانا محض جذباتی منظر نہیں تھا، بلکہ یہ عالمی ضمیر کو مخاطب کرنے کی ایک سفارتی کوشش بھی تھی۔ ایران کی موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب تہران پر بیرونی فوجی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ سب ایک ساتھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایرانی صدر نے دنیا کے سامنے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران دباؤ کے نیچے ٹوٹنے والا ملک نہیں۔


 


ایران کا پیغام یہ تھا کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو برابری کی بنیاد پر ہوں گے، اگر امن ہوگا تو عزت کے ساتھ ہوگا اور اگر عالمی برادری ایران سے کسی فیصلے کی توقع رکھتی ہے تو اسے ایران کے حق خودمختاری اور سلامتی کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ مؤقف ایران نے اقوام متحدہ کے اسی پلیٹ فارم سے دنیا کے سامنے رکھا، جہاں عالمی طاقتیں عموماً اپنے اصولوں کی بات کرتی ہیں۔ تہران دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ایران کو صرف میزائلوں، جوہری پروگرام، پابندیوں یا علاقائی سیاست کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ ایران کے پیچھے ایک قوم ہے، اس کے گھر ہیں، اس کے بچے ہیں، اس کی تاریخ ہے، اس کا دکھ ہے اور اس کی اپنی سیاسی شناخت ہے۔ جب اس قوم کو دباؤ میں لایا جاتا ہے تو ایرانی قیادت کے مطابق مزاحمت صرف سیاسی نعرہ نہیں رہتی بلکہ قومی وقار کا مسئلہ بن جاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں ڈاکٹر پزشکیان کی تقریر ختم ہونے کے بعد بھی اصل منظر ختم نہیں ہوا۔


 


الفاظ ختم ہوگئے، مگر وہ دو تصویریں ذہن میں رہ گئیں۔ ایک تصویر میں ایک رہبر تھا، دوسری میں بچے تھے۔ ایک تصویر میں ایران کا عزم تھا، دوسری میں ایران کا درد۔ ایک میں مزاحمت تھی، دوسری میں آنسو۔ رہبر کی تصویر نے ایران کے عزم کی گواہی دی۔ میناب کے بچوں کی تصویر نے ایران کے زخم کی اور دونوں تصویروں کے درمیان ایک پوری قوم کھڑی تھی، جو دنیا سے شاید صرف یہ کہہ رہی تھی کہ ہمیں صرف جنگ کے نقشے پر مت دیکھو، ہمارے چہروں پر بھی دیکھو۔ ہماری طاقت کو دیکھنے سے پہلے ہمارا درد دیکھو۔ دنیا شاید ایران کے بارے میں اپنے اپنے خیالات رکھتی ہو۔ کوئی تہران کی پالیسیوں سے اتفاق کرے یا اختلاف، کوئی ایرانی حکومت کو پسند کرے یا نہ کرے، لیکن میناب کے بچوں کی تصویر کے سامنے ایک بنیادی انسانی حقیقت بہرحال باقی رہتی ہے، بچے جنگ کے فیصلے نہیں کرتے، لیکن جنگ اکثر ان کے مستقبل کا فیصلہ کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر پزشکیان نے اقوام متحدہ میں اسی خاموش حقیقت کو آواز دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایران کو دھمکی دے کر، پابندیوں سے دبا کر یا فوجی طاقت سے خوفزدہ کرکے اس کے سیاسی ارادے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔