اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رہ نے ایرانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی عوام یہ خیال نہ کریں کہ ایرانی فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ایرانی فوج، مسلح افواج اور ہمارے عزیز پاسداران اس قابل ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کریں، تاہم جب تک صورتحال انتہائی سنگین نہ ہو، وہ اپنی پوری طاقت استعمال نہیں کرتے۔ جس وقت معاملہ سنجیدہ ہوگا، میں انہیں حکم دوں گا کہ پوری قوت کے ساتھ کارروائی کریں اور عراق کو اس کی حدود میں واپس پہنچا دیں۔
ایرانی عوام یہ بھی نہ سمجھیں کہ کوئی بڑی جنگ شروع ہوگئی ہے اور انہیں گھبرا کر اپنے ہوش و حواس کھو دینے چاہئیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ دشمن نے ایک کارروائی کی، یہاں بم گرایا اور فرار ہوگیا۔ ایرانی حکومت بھی اس کا جواب دینے میں مصروف ہے اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
دشمن کی بحری افواج کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کی زمینی افواج کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوام کو اس معاملے میں غیر ضروری خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد جنگیں ہوچکی ہیں اور ایران بھی ان میں شامل رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
اگر ایران میں موجود دشمن عناصر، مختلف گروہ یا تنظیمیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر افواہیں پھیلانے کی کوشش کریں، لوگوں کو فون کرکے یہ کہیں کہ کیا ہوگیا، کیا صورتحال ہے یا کوئی بغاوت اور تختہ الٹنے کی کوشش ہوگئی ہے، تو ایسی باتوں پر یقین نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن حملہ کرکے واپس چلا گیا ہے اور ان شاء اللہ دوبارہ ایسی کارروائی کی اس میں طاقت نہیں ہوگی۔
میں ایرانی عوام کو تاکید کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اپنا حوصلہ اور سکون برقرار رکھیں۔ کسی معمولی واقعے کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنے والی افواہوں پر توجہ نہ دیں، تاکہ ان واقعات کی آڑ میں ملک کے اندر کسی قسم کی بدامنی یا انتشار پیدا نہ ہو۔