مزاحمت کا ایک طاقتور نام

سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ ’’حوثیوں کے سربراہ‘‘ ہیں

ID: 87414 | Date: 2026/09/15

تحریر: میثم عابدی


 


سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ ’’حوثیوں کے سربراہ‘‘ ہیں۔ ان کی شخصیت یمن کی زیدی مذہبی روایت، ایک مقامی سیاسی تحریک، 2004ء سے جاری حوثی بغاوت، سعودی عرب کے ساتھ جنگ اور حالیہ علاقائی تنازعات—سب کے سنگم پر کھڑی ہے۔ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی یمن کی تحریک انصار اللہ کے موجودہ قائد ہیں، جسے عام طور پر ’’حوثی تحریک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق انہوں نے 2004ء میں اپنے بڑے سوتیلے بھائی حسین بدرالدین الحوثی کی شہادت کے بعد تحریک کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعد سے اس تنظیم کے سربراہ ہیں۔ ان کا تعلق یمن کے شمالی علاقے صعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سادات خاندان سے ہے۔ ان کے والد بدرالدین الحوثی عالم تھے، جبکہ ان کے بڑے بھائی حسین الحوثی نے اس تحریک کے ابتدائی سیاسی و فکری ڈھانچے کو منظم کیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ حوثی خاندان کی قیادت کی ترتیب بھی بیان کرتی ہے: پہلے حسین، پھر والد بدرالدین، اور بعد ازاں عبدالملک۔


 


حسین الحوثی سے عبدالملک تک


یہاں سید عبدالملک کی کہانی کے آغاز کو سمجھنا ضروری ہے۔ یمن میں زیدی برادری شمالی علاقوں میں صدیوں سے ایک اہم مذہبی و سماجی قوت رہی ہے۔ 1962ء میں شمالی یمن کی زیدی امامت ختم ہوئی اور جمہوری نظام قائم ہوا۔ بعد کے عشروں میں زیدی علاقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کی مذہبی شناخت، سیاسی نمائندگی اور معاشی مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسی ماحول میں 1980ء کی دہائی میں احیائی تحریک کا پس منظر تیار ہوا، جو بعد میں حوثی تحریک کے لیے بنیاد بنا۔ حسین بدرالدین الحوثی نے اس تحریک کو سیاسی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2004ء میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ سید حسین اسی سال ستمبر میں شہید کر دیئے گئے، جس کے بعد سید عبدالملک سامنے آئے۔ 2004ء سے 2010ء تک حکومتِ یمن اور حوثیوں کے درمیان صعدہ کی چھ جنگیں ہوئیں۔ یہی مرحلہ سید عبدالملک کی قیادت کا اصل آغاز تھا۔


 


انصار اللہ کیسے ایک بڑی قوت بنی؟


ابتدائی طور پر انصاراللہ کی تحریک شمالی یمن کی ایک مذہبی و سیاسی تحریک تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس کا عسکری کردار بڑھتا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق تحریک نے بدعنوانی، معاشی پسماندگی اور سیاسی محرومی کے خلاف نعرے بلند کیے اور زیدی اکثریتی علاقوں کے لیے زیادہ خودمختاری کی بات کی۔ 2011ء میں اسلامی ممالک میں بادشاہوں کے خلاف شروع ہونے والی اسلامی عرب بہار کے بعد یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کا اقتدار ختم ہوا اور عبوری سیاسی عمل شروع ہوا۔ اس عبوری دور میں انصاراللہ نے شمالی یمن میں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ پھر 2014ء میں صورتحال نے ڈرامائی رخ اختیار کیا۔


 


2014ء: صنعا پر قبضہ


2014ء میں انصاراللہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں داخل ہو کر بڑے پیمانے پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ 2015ء میں صدر عبدالرب منصور ہادی عدن فرار ہوئے اور پھر سعودی عرب چلے گئے۔ اقوام متحدہ نے اسی دور میں سید عبدالملک الحوثی کو یمن کے امن و استحکام کے لیے مبینہ خطرہ بننے والی انصاراللہ کا سربراہ قرار دیتے ہوئے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جبکہ حوثی قیادت کو یمنی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل رہی۔


 


سعودی عرب جنگ میں کیوں داخل ہوا؟


26 مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے عبدالرب منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرنے کیلئے یمن کے اندروی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اس کی خودمختاری پر حملہ کیا اور فوجی کارروائی شروع کی۔ سعودی حکومت کا مؤقف تھا کہ وہ مبینہ طور پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو بحال کرنے اور حوثی پیش قدمی روکنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔ یہ جنگ کئی سال تک جاری رہی اور یمن شدید انسانی بحران کا شکار ہوا۔ عبدالملک الحوثی کی قیادت میں حوثیوں نے روایتی گوریلا جنگ سے آگے بڑھ کر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز کے استعمال کی صلاحیت حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں جنگ یمن کی سرحدوں سے نکل کر سعودی تنصیبات، بحیرۂ احمر اور بعد میں اسرائیل تک پہنچ گئی۔


 


غزہ کے بعد عبدالملک الحوثی کی اہمیت


2023ء میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد انصاراللہ نے اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ اس سے عبدالملک الحوثی کا کردار یمن کی داخلی سیاست سے نکل کر پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نمایاں ہوگیا۔ CFR کے مطابق انصاراللہ نے بحیرۂ احمر میں کارروائیوں کے ذریعے خطے میں ایک اہم عسکری قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اسی عرصے میں انصاراللہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی کارروائیاں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف ہیں۔


 


آج عبدالملک الحوثی کی کیا حیثیت ہے؟


آج سید عبدالملک الحوثی انصاراللہ کی مرکزی قیادت کے ذمہ داری پر فائز ہیں۔ حالیہ دنوں میں انصاراللہ کی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی اور سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ شدید لڑائی کے باعث ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ پیش رفت نے انصاراللہ کو باب المندب کے قریب مزید نمایاں فوجی پوزیشن دی ہے اور عبدالملک الحوثی کو خطے کے اہم ترین کرداروں میں شامل کردیا ہے۔ اسی حالیہ کشیدگی میں سعودی عرب اور انصاراللہ کے درمیان حملے دوبارہ بڑھے ہیں، جبکہ پاکستان سمیت بعض ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


 


عبدالملک الحوثی کی قیادت کا انداز


عبدالملک الحوثی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ عام سیاسی رہنماؤں کی طرح مسلسل عوام کے سامنے نہیں آتے۔ ان کی زیادہ تر اہم تقریریں ٹیلی ویژن یا ویڈیو خطاب کی صورت میں ہوتی ہیں۔ رائٹرز کی حالیہ پروفائل کے مطابق وہ بیرونی دنیا سے براہِ راست رابطے میں بھی نسبتاً کم نظر آتے ہیں، جبکہ ان کے عسکری ترجمان یحییٰ السریع زیادہ نمایاں عوامی چہرے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ سید عبدالملک الحوثی کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک سید یمنی خانوادے سے نکلنے والا جوان رہنما کہ جس نے 2004ء کے بعد ایک محدود مذہبی و علاقائی تحریک کی قیادت سنبھالی اور اسے ایسی منظم سیاسی و عسکری قوت میں تبدیل کیا جو آج یمن کی سیاست کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ایران، اسرائیل، امریکا اور بحیرۂ احمر کی علاقائی سیاست پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔