شہدا کے اہلخانہ چٹان کی طرح دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں

ID: 87246 | Date: 2026/09/04

شہدا کے اہلخانہ چٹان کی طرح دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں

آیت اللہ علی قدوسی کی شہادت کے بعد امام خمینیؒ نے 15 ستمبر 1981 کو ملتِ ایران کے نام ایک تعزیتی پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے شہید قدوسی اور شہید وحید دستجردی کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔


آیت اللہ علی قدوسی، جو انقلاب اسلامی کے چیف پراسیکیوٹر کے منصب پر فائز تھے، 14 ستمبر 1981 کو منافقین کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ امام خمینیؒ نے اپنے پیغام میں انہیں تقویٰ، حسنِ عمل، استقامت، مزاحمت اور اسلامی انقلاب کے مقصد سے وابستگی کی علامت قرار دیا۔


انہوں نے کہا کہ شہادت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عظیم تحفہ ہے اور جو لوگ اسلام اور ملت کی خدمت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرتے ہیں، وہ سربلندی کے ساتھ اللہ سے جا ملتے ہیں۔


امام خمینیؒ نے حالیہ شہداء، بالخصوص آیت اللہ قدوسی اور پولیس فورس کے سربراہ کرنل وحید دستجردی کی شہادت پر ملتِ ایران، حوزہ علمیہ قم اور مسلح افواج کو تعزیت و مبارکباد پیش کی اور شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و شکیبائی کی دعا کی۔


انہوں نے ان عناصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو یہ سمجھتے تھے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو اسلامی عدل کے قیام کی جدوجہد سے دور کیا جا سکتا ہے۔ امام خمینیؒ کے مطابق، شہداء کے والدین، مائیں، اولاد اور خصوصاً ان کی بیویاں ان قربانیوں پر فخر کرتے ہیں اور "چٹان کی طرح حوادث کے مقابل کھڑی ہیں۔"


انہوں نے مزید کہا کہ دشمنوں کو یہ حقیقت نظر نہیں آتی کہ ان کے اقدامات عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے عزم کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ امام خمینیؒ نے دہشت گرد عناصر کے بارے میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ مایوسی کی شدت سے جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں اور ملتِ ایران سے انتقام لے رہے ہیں۔


پیغام کے اختتام پر امام خمینیؒ نے گمراہ کیے گئے نوجوانوں کے لیے ہدایت اور ان کے سرکردہ عناصر کے لیے شکست و رسوائی کی دعا کی اور شہداءِ راہِ حق کو سلام و درود پیش کیا۔