ممتاز لبنانی ماہر نے تہران کی دانشمندانہ جنگی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے فوجی غرور کو توڑ دیا۔ خطے میں امریکہ کی مسلسل جارحیت اور ایران کی جانب سے اس کے بھرپور جواب کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی ماہرین و تجزیہ کاروں کے تجزیوں کے دوران ایک ممتاز لبنانی ماہر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کرکے خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے وسائل اور گولہ بارود ختم ہوں گے جبکہ امریکی فوجیوں کے جانی و مالی نقصانات میں اضافہ ہوگا۔
لبنانی فوجی اور تزویراتی امور کے ماہر بریگیڈیئر اکرم سریوی نے یمن کی ویب سائٹ المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے آپشن پر غور اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حکومت اور فوجی اداروں کے اندر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ امریکی فوج کے بہت سے کمانڈروں نے حکومت کو اس راستے کو جاری رکھنے کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ امریکی فوجی افسران میدانِ جنگ کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور فوجی و مالی دباؤ، خصوصاً گولہ بارود اور میزائلوں کے استعمال سے پیدا ہونے والا دباؤ، واشنگٹن کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے اور آج امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی دفاعی نظام کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
لبنانی ماہر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور جنگی نظریہ ہمیشہ اس بنیاد پر قائم رہا ہے کہ حملوں کا دائرہ وسیع نہ ہو اور جنگ جلد از جلد ختم ہوجائے، لیکن ایران کے بھرپور جواب کے باعث لڑائی کا دائرہ وسیع ہوگیا اور خطے کے کئی ممالک، جن میں کویت، عراق، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں، میں امریکہ کی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈیئر اکرم سریوی نے کہا کہ ایران کے وسیع پیمانے پر حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ایک سخت آزمائش سے دوچار کردیا ہے اور دفاعی گولہ بارود میں مسلسل کمی کے پیش نظر واشنگٹن کی جانب سے اپنے فوجیوں اور تنصیبات کی حفاظت جاری رکھنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے دور میں محاذ آرائی کی نوعیت کا اندازہ صرف جدید ترین ہتھیار رکھنے سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کا پیمانہ دونوں فریقوں کی لچک، مزاحمت اور جنگ کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ یہاں ایران کی دانشمندانہ حکمتِ عملی دشمن پر طویل اور تھکا دینے والی جنگ مسلط کرنے اور بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون داغنے پر مبنی ہے تاکہ امریکی فضائی دفاع کو ناکارہ بنایا جاسکے۔ عرب تجزیہ کار نے کہا کہ ایران اپنے دشمن کی طاقت اور کمزوری کے نکات سے بخوبی آگاہ ہے اور امریکہ کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے، جہاں وہ فضائی یا بحری برتری کی بنیاد پر براہِ راست محاذ آرائی میں الجھنے کے بجائے امریکی صلاحیتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
مذکورہ لبنانی ماہر نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہِ راست فضائی یا بحری محاذ آرائی میں نہیں الجھا بلکہ اس کے بجائے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دشمن کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس حکمتِ عملی نے امریکہ کی دفاعی صلاحیت کو بتدریج کمزور کیا اور محاذ آرائی کی نوعیت میں نئے عوامل شامل کردیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں امریکہ کی سب سے نمایاں غلطیوں میں سے ایک فوجی غرور اور جنگ کی مدت اور فوری فتح کے امکان کا غلط اندازہ لگانا تھا۔ اس کے نتیجے میں واشنگٹن خود کو ایک ایسی طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں پھنسا ہوا پاتا ہے جس سے وہ نکل نہیں پا رہا۔ اس لبنانی تجزیہ کار نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ امریکہ بعض حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اب وہ ایران کے خلاف ایک طویل اور انتہائی تھکا دینے والی جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی غلطی یہ بھی تھی کہ اس نے ایران میں وینزویلا طرز کے منظرنامے کی امید لگا رکھی تھی۔