اسلامی انقلاب کے وجود کے لیے کون سے عوامل خطرات اور چیلنجز پیدا کرتے ہیں؟

انقلاب کے دوران رہائش کے مسئلے پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی تھی کہ کس کے پاس گھر ہے اور کس کے پاس نہیں

ID: 86911 | Date: 2026/08/15

الف) اسلامی احکام سے غفلت رسوائی کا باعث بن سکتی ہے


لیکن اس کے بعد ہمارے سامنے دوسرے امور بھی ہیں۔ وہی لوگ جنہوں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا اور بعض مقامات پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، اب آئین کی توثیق میں رکاوٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئین اسلامی نوعیت کا ہے اور اسلامی جمہوریہ سے متعلق ہے، اور وہ اسلام سے خوف زدہ ہیں۔ اسلام کے خوف کی وجہ سے وہ نہیں چاہتے کہ ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہو۔


اس سے پہلے وہ کہا کرتے تھے کہ وہ جمہوریہ چاہتے ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ نہیں۔ وہ ایک جمہوری جمہوریہ چاہتے تھے، یعنی مغربی طرز کی جمہوری ریاست۔ لیکن ہم مسلمان ہیں اور اسلام کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ہم بہت سی چیزوں سے صرفِ نظر کر سکتے ہیں، لیکن اسلام سے نہیں۔ تمام عوام نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ چاہتے ہیں۔


صحیفۂ امام، جلد ۸، ص ۱۷۱


 


ب) ذاتی اور مادی خواہشات کا غلبہ


ہر انقلاب کے لیے، اور شاید یہ ایک ناگزیر امر بھی ہے، یہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے کہ عوام کی کامیابی کے بعد ذاتی مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ کسی بھی قوم کے لیے، جو انقلاب کے مرحلے سے گزر رہی ہو، ذاتی اور گروہی مسائل اہم نہیں ہوتے۔ تمام لوگ اپنے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے متحد ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ایران کے انقلاب میں دیکھا کہ عوام کے تمام طبقات نے اپنے معمولی، ذاتی اور گروہی مسائل کو ایک طرف رکھ دیا تھا اور ایک ہی مقصد کی جانب گامزن تھے۔


حتیٰ کہ وہ گروہ بھی جو اس تحریک سے اتفاق نہیں کرتے تھے، خاموش رہے۔ وہ اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہیں احساس تھا کہ قوم کے مقابلے میں ان کی مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔


لیکن جب کامیابی حاصل ہوئی، عوام نے محسوس کیا کہ انہوں نے اپنے مخالف اور اس قدر طاقتور اور گہری جڑیں رکھنے والے دشمن کو بھی اقتدار سے نکال باہر کیا ہے؛ ایسا دشمن جس کی حکومت ڈھائی ہزار سال پرانی تھی۔ جب انہیں اپنی کامیابی کا احساس ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے ۵ کروڑ ۳۰ لاکھ افراد کو جیل سے آزاد کر دیا گیا ہو۔


وہ اچانک اس جبر، دباؤ اور لوٹ مار سے باہر نکل آئے جس کا وہ طویل عرصے سے سامنا کر رہے تھے، اور اپنی ذاتی ضروریات اور مطالبات کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یہ انقلاب کا ایک فطری حصہ ہے اور ایران میں بھی ایسا ہی ہوا۔


انقلاب کے دوران رہائش کے مسئلے پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی تھی کہ کس کے پاس گھر ہے اور کس کے پاس نہیں۔ حتیٰ کہ کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ بھی اس مسئلے کو موضوعِ بحث نہیں بناتے تھے۔ جیسا کہ ان میں سے ایک شخص نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہر صبح وہ سب مل کر مظاہروں میں شرکت کے لیے نکلتے تھے۔


اس دوران کسی کو اس بات کی فکر نہیں تھی کہ اس کے پاس گھر ہے یا نہیں، کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں، یا کسی کی تنخواہ کم ہے یا زیادہ۔ اس طرح کے مسائل، اپنی جگہ اہم ہونے کے باوجود، اس وقت اہمیت نہیں رکھتے جب ایک انقلاب جاری ہو۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا، ایران کے انقلاب میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔


صحیفۂ امام، جلد ۸، ص ۳۱۶


 


ج) فاسد اور جاہل افراد کو نظام میں شامل کرنا


جو لوگ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں اب اسلام کی مدد کرنی چاہیے۔ جو لوگ اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے خواب دیکھتے ہیں، انہیں اس مشکل سے نکلنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔


آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن وہ مسائل اور حالات سے ناواقف ہیں۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو قسم کے لوگوں نے میری کمر توڑ دی: غافل عالم اور جاہل عبادت گزار۔


ظاہری طور پر متقی اور دیندار افراد نے بھی پیغمبر اکرم ﷺ کو نقصان پہنچایا۔ ایک جاہل شخص جب اسلام کے نام پر کوئی غیر منطقی اور نادرست اقدام کرتا ہے تو درحقیقت وہ اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔


’’دو قسم کے لوگوں نے میری کمر توڑ دی: غافل عالم اور جاہل عبادت گزار۔‘‘


صحیفۂ امام، جلد ۱۱، ص ۲۴۲