آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کے جھوٹے دعوے

تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی مجموعی 166 آمد و رفت میں سے صرف 2 جہاز امریکی حمایت یافتہ راستے سے گزرے

ID: 86907 | Date: 2026/08/16

تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی مجموعی 166 آمد و رفت میں سے صرف 2 جہاز امریکی حمایت یافتہ راستے سے گزرے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے گروپ کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے جہازوں کی آمد و رفت، ان کے اختیار کردہ راستوں، حملوں، بیمہ اخراجات اور جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی سے نکل جانے والے تیل کی مقدار کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے بہت مختلف ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:


 


1۔ بحری آمد و رفت میں شدید کمی:


وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ جنگ سے پہلے روزانہ 130 سے زیادہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن منگل کے روز صرف 14 جہاز آبنائے سے گزرے؛ یعنی بحری آمد و رفت معمول کی سطح کے تقریباً دسویں حصے تک رہ گئی ہے۔ یہی وہ اہم ترین عدد ہے جو آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے ٹرمپ کے دعوے کو شدید سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔


 


2۔ ایرانی راستے سے جہازوں کی آمد و رفت:


ان 14 جہازوں میں سے 11 نے ایران کے زیرِ انتظام راستہ اختیار کیا۔ اس طرح، ایسے وقت میں بھی جب امریکا آبنائے ہرمز پر اپنے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کر رہا ہے، گزرنے پر آمادہ ہونے والے جہازوں کی بھاری اکثریت نے وہ راستہ استعمال کیا جسے ایران چلا رہا ہے۔


 


3۔ ایران کا مستقل کنٹرول:


جولائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد صرف 26 جہاز روزانہ رہی۔ حتیٰ کہ جون میں، جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا، تب بھی روزانہ بحری آمد و رفت کی اوسط صرف 33 جہاز تھی۔ جنگ سے پہلے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ بحری آمد و رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کوئی عارضی یا وقتی صورتحال نہیں ہے، بلکہ ایران اسے ایک مستقل صورتحال میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ رپورٹ بھی آبنائے ہرمز میں معمول کے مقابلے میں انتہائی کم بحری آمد و رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔


 


4۔ امریکی راستے کو نظر انداز کرنا:


وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ اگست میں ریکارڈ کیے گئے 166 بحری گزرگاہوں میں سے صرف دو جہاز عمان کے ساحل کے ساتھ واقع اس راستے سے گزرے جو امریکا کی حمایت میں ہے۔ یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ امریکی بحری فوج کی موجودگی بھی جہازوں کو واشنگٹن کی حمایت یافتہ راستے سے گزرنے پر آمادہ نہیں کر سکی۔


 


5۔ عالمی منڈی سے 2.6 ارب بیرل تیل کا اخراج:


آرامکو کے چیف ایگزیکٹو نے گزشتہ ہفتے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باعث 2.6 ارب بیرل سے زیادہ تیل عالمی سپلائی کے نظام سے باہر ہو چکا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ بھی آبنائے ہرمز میں شدید خلل کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل پر پڑنے والے بڑے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔


 


6۔ بیمہ اخراجات میں 40 گنا اضافہ:


آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے جنگی خطرے کا بیمہ، جو جنگ سے پہلے جہاز کی مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھا، اب بڑھ کر 10 فیصد ہو گیا ہے؛ یعنی اس میں تقریباً 40 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک بڑے آئل ٹینکر کے لیے یہ اضافہ ایک مرتبہ آبنائے سے گزرنے پر 3 سے 10 ملین ڈالر تک اضافی لاگت کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی اضافی اخراجات اور حملے کا خطرہ بحری کمپنیوں کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے سے گریز پر مجبور کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، موجودہ صورتحال میں جہاز رانی کا خطرہ اور بیمہ لاگت دونوں نے بحری آمد و رفت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔


 


7۔ خلاصہ:


ان تمام اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ بحری آمد و رفت روزانہ 130 سے زیادہ جہازوں سے کم ہو کر 14 جہاز رہ گئی ہے؛ جولائی میں روزانہ آمد و رفت کی اوسط صرف 26 جہاز اور جون میں 33 جہاز رہی؛ اگست میں ریکارڈ کیے گئے 166 بحری گزرگاہوں میں سے صرف دو امریکی حمایت یافتہ راستے سے ہوئے؛ جبکہ بیمہ کی لاگت 0.25 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی ہے۔


اس کے ساتھ عالمی منڈی سے 2.6 ارب بیرل سے زیادہ تیل کے اخراج کو بھی مدنظر رکھا جائے تو یہ اعداد و شمار آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے شدید خلل کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ ٹرمپ کے ’’آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول‘‘ کے دعوے کے باوجود جہازوں کی بڑی تعداد ایرانی نگرانی والے راستے کو ترجیح دے رہی ہے۔