امام خمینیؒ کا حکام کو عوامی خدمت اور ذمہ داری کا احساس دلانے پر زور
امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ نے حکومتی و ریاستی ذمہ داران کو ان کی وسیع ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام عہدیداران اور عوام اسلام، ملک اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی ذمہ دار کے لیے اپنی کوتاہی کو عذر کے ذریعے درست ثابت کرنے کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام ایک عظیم امانت کے طور پر موجودہ نسل تک پہنچا ہے اور اب یہ ذمہ داری ہے کہ اسے آئندہ نسلوں تک درست صورت میں منتقل کیا جائے۔ ان کے بقول سابقہ نظام میں بعض افراد یہ عذر پیش کرتے تھے کہ انہیں اسلامی اصولوں کے مطابق عمل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، لیکن موجودہ نظام میں حکومت، پارلیمنٹ اور صدر کو عوامی حمایت حاصل ہے، اس لیے ملک میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
امام خمینیؒ نے تمام سرکاری و عسکری اداروں کو ملک کی خدمت اور عوام کے تحفظ پر توجہ دینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ اور منصب مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے حکام کو خبردار کیا کہ اقتدار کو ذاتی مقام یا مراعات کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عوام کی خدمت اور ملک کی بہتری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے خاص طور پر غریب اور محروم طبقات کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ حکام کو ان لوگوں کے مسائل کو ترجیح دینی چاہیے جو طویل عرصے تک محرومی اور نظرانداز کیے جانے کا شکار رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے انقلاب اور ملک کے دفاع کے لیے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ریاستی ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کریں۔
امام خمینیؒ نے مزید کہا کہ حکام اور مسلح افواج کی تمام سرگرمیاں جواب دہی کے دائرے میں آتی ہیں اور ہر فرد کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی ترقی، اسلامی اقدار کے تحفظ اور محروم عوام کی خدمت کو تمام ذاتی مفادات اور عہدوں پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔