امام خمینیؒ: محروم طبقات کی حکومت بیرونی طاقتوں کے دباؤ سے خوف زدہ نہیں ہوتی

امام خمینیؒ نے کہا کہ محروم اور مستضعف طبقات پر مبنی حکومت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے دباؤ اور دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ایسی حکومت میں شامل افراد اپنے عہدے اور مراعات کے تحفظ کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔

ID: 86849 | Date: 2026/08/01

امام خمینیؒ: محروم طبقات کی حکومت بیرونی طاقتوں کے دباؤ سے خوف زدہ نہیں ہوتی


امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ نے کہا کہ محروم اور مستضعف طبقات پر مبنی حکومت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے دباؤ اور دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ایسی حکومت میں شامل افراد اپنے عہدے اور مراعات کے تحفظ کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔


انہوں نے اشرافی اور آسائش پسند حکمران طبقے کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار اور مراعات کھونے کا خوف ایسے حکمرانوں کو اپنے ماتحت عوام کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے سامنے کمزور اور تابع رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان کے مطابق سابق دور میں بعض اعلیٰ عہدیداران اندرونِ ملک عوام پر سختی کرتے تھے، لیکن غیر ملکی سفارت خانوں کے سامنے انتہائی کمزوری کا مظاہرہ کرتے تھے۔


امام خمینیؒ نے کہا کہ اس کے برعکس عوام اور محروم طبقات سے وابستہ حکومت میں بیرونی طاقتوں کا خوف بنیادی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق انقلاب کے بعد ایران نے یہ رویہ اختیار کیا کہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کو ملکی معاملات میں مداخلت یا ایرانی حکام اور اہلکاروں کو دباؤ میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے حکمران یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایران کسی بڑی عالمی طاقت کے سامنے آزادانہ موقف اختیار کر سکتا ہے، لیکن عوامی حکومت نے اس تصور کو تبدیل کر دیا۔ ان کے مطابق ایران نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ قومی مفادات کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔


امام خمینیؒ نے ایران کی خارجہ پالیسی اور قومی خودمختاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی قیادت کو کسی بیرونی طاقت کے احکامات کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ایک عوامی اور مستضعفین کی حکومت ہے، اس لیے اسے کسی بڑی طاقت کی دھمکی یا دباؤ سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔


انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کے عہدیداران کے لیے اقتدار کوئی ذاتی سرمایہ یا مستقل حیثیت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اس لیے ان کی ترجیح اپنے منصب کو بچانا نہیں بلکہ عوام اور ملک کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب حکمران ذاتی اقتدار اور مراعات کے بجائے قومی ذمہ داری کو مقدم رکھتے ہیں تو بیرونی طاقتیں انہیں آسانی سے دباؤ میں نہیں لا سکتیں