’’صداقت کا تحفظ، امانت داری اور اخلاق پسندی‘‘ امام خمینیؒ کے اخلاقی اصولوں میں شامل تھے؛ ڈاکٹر علی کمساری

مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے سربراہ نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا: ایک مرتبہ امامؒ نے ایک پیغام جاری کیا اور فرمایا کہ اسے رات دو بجے ریڈیو سے نشر کیا جائے

ID: 86812 | Date: 2026/08/10

امام خمینیؒ پورٹل: مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ذرائع ابلاغ کے پاس واضح حکمتِ عملی اور اسٹریٹیجی ہونی چاہیے، کہا: ’’امام خمینیؒ اخلاق اور شریعت کے دائرے سے باہر نہیں جاتے تھے۔‘‘ لہٰذا میرے خیال میں جماران کی بنیادی شناخت اور ماہیت اسی امر سے تشکیل پاتی ہے کہ وہ امامؒ کی فکری اصولوں کے محور پر آگے بڑھے۔ حتیٰ کہ عام خبروں کی ترسیل کے وقت بھی آپ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ آپ کے پاس ’’امام‘‘ کے نام سے ایک معیار موجود ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ امامؒ کو صحیح طور پر جانیں؛ اگر یہ معرفت ناقص ہو تو انسان افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔


حجۃ الاسلام والمسلمین علی کمساری نے یومِ صحافت کے موقع پر جماران کے نیوز روم کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان مشکل اور حساس دنوں میں صحافی ایک عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر دنیا میں صحافت یا خبررسانی کو مشکل اور نقصان دہ پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ بھی کہنا چاہیے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اہلِ صحافت کے لیے اس پیشے کی دشواری، نقصان دہ اثرات اور ذہنی دباؤ کہیں زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔


مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے سربراہ نے مزید کہا: اگر یہ معیار درست ہے کہ ذرائع ابلاغ کی اہمیت واقعات کے وقوع اور ان کی مقدار کے تناسب سے متعین ہوتی ہے، تو موجودہ زمانہ میڈیا کے لیے انتہائی اہم دور ہے؛ اس حد تک کہ شاید گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہمیں اس جیسی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہوا۔ البتہ انقلاب اور جنگ کا زمانہ ایک الگ بحث ہے، لیکن حتیٰ کہ مسلط کردہ پہلی جنگ بھی آٹھ سال تک جاری رہی؛ یعنی جنگ کے طویل دورانیے کی وجہ سے، ابتدائی دو تین برسوں کے علاوہ، واقعات نسبتاً وقفے کے ساتھ پیش آتے رہے۔


انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ میڈیا کے پاس واضح حکمتِ عملی اور اسٹریٹیجی ہونی چاہیے، کہا: جماران جیسے میڈیا ادارے کا ایک بلند تر مقصد اور ایک مخصوص فلسفۂ تاسیس ہے، اور اس کا مقصد محض خبر برائے خبر نہیں ہے۔ اگر مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ حضرت امامؒ نے ایک میڈیا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ادارے کے پاس اپنا میڈیا ہو۔ کیا مؤسسۂ امامؒ کی ذمہ داری صرف خبروں کی کوریج کرنا ہے؟ نہیں؛ اس کے پسِ پردہ ایک حتمی مقصد موجود ہے۔ جماران کے قیام کا مقصد حضرت امامؒ کے نام، افکار اور نظریات کو فروغ دینا اور انہیں زندہ رکھنا ہے۔


کمساری نے ’’صداقت کا تحفظ‘‘، ’’امانت داری‘‘ اور ’’اخلاق پسندی‘‘ کو امامؒ کے اخلاقی اصولوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: جب ہم کہتے ہیں کہ جماران امام خمینیؒ کا میڈیا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ امامؒ کے حوالے سے مواد نقل کرتا ہے؛ بلکہ خبر کی تنقید، تجزیے، انٹرویو اور مضامین میں بھی جماران کو ہمیشہ اسی اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ امام خمینیؒ محض ایک نام نہیں ہیں؛ امام خمینیؒ ایک طریقۂ فکر، ایک طرزِ سلوک اور درحقیقت ایک طرزِ زندگی ہیں۔


انہوں نے امامؒ کے نام کو کم رنگ کرنے یا اسے منظر سے ہٹانے کے سلسلے میں بعض دوستوں کی بے مہری اور دشمنوں کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یقین رکھیں کہ جب تک امامؒ کی حقیقی شخصیت اور افکار کو صحیح طور پر بیان کیا جاتا رہے گا، کوئی بھی شخص امامؒ کے نور کو بجھا یا مٹا نہیں سکتا۔ جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:


«لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ کَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا؛ یعنی اگر لوگ ہم اہلِ بیت علیہم السلام کے کلام کی خوبیاں جان لیں تو ہماری پیروی کریں گے۔»


اگر ہم امامؒ کو اسی طرح متعارف کرا سکیں جیسے وہ حقیقتاً تھے، تو شہید چمران جیسی شخصیات، جنہوں نے دنیا کی بہترین جامعات میں اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا، آج بھی امامؒ کی شخصیت کے سحر اور کشش سے متاثر ہوں گی۔


مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے سربراہ نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا: ایک مرتبہ امامؒ نے ایک پیغام جاری کیا اور فرمایا کہ اسے رات دو بجے ریڈیو سے نشر کیا جائے۔ رات ایک بجے امامؒ نے فرمایا کہ پیغام واپس لے آؤ؛ مجھے اس میں ایک جگہ اصلاح کرنی ہے۔ امامؒ نے اس پیغام میں مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا: ’’میں اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘‘


سب کے لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ امامؒ آخر کیا چیز درست کرنا چاہتے ہیں؟ امامؒ نے ’’تمام‘‘ کا لفظ حذف کرکے لکھا: ’’میں اپنی اکثر توانائی کے ساتھ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘‘ بظاہر امامؒ نے اپنے جملے پر غور کیا اور محسوس کیا کہ وہ ہر وقت اپنی تمام توانائی کے ساتھ ان کے لیے دعا نہیں کرتے؛ کیونکہ بعض اوقات وہ کسی نشست میں ہوتے، کھانا کھا رہے ہوتے یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہوتے۔ اسی لیے انہوں نے اس لفظ کو تبدیل کیا تاکہ ان کی طرف سے کوئی خلافِ واقعہ دعویٰ نہ ہو۔


انہوں نے مزید کہا: ’’تقویٰ‘‘ بہت اہم ہے۔ جن چیزوں نے امامؒ کو ’’امام‘‘ بنایا، ان میں یہی اوصاف شامل تھے، اور یہی اوصاف امامؒ کی میراث اور فکر کو محفوظ رکھتے ہیں۔


کمساری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج میڈیا میں اخلاق پسندی کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے، کہا: امامؒ کبھی اخلاق اور شریعت کے دائرے سے باہر نہیں نکلے۔ اسی لیے میرے خیال میں جماران کی بنیادی شناخت اسی بات سے تشکیل پاتی ہے کہ وہ امامؒ کی فکر کے اصولوں کے محور پر حرکت کرے۔ حتیٰ کہ عام خبریں نقل کرتے وقت بھی آپ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ آپ کے پاس ’’امام‘‘ کے نام سے ایک معیار موجود ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ امامؒ کو جانیں اور سمجھیں؛ اگر یہ معرفت ناقص ہو تو انسان افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔


کمساری نے مزید کہا: جماران ایک ایسا میڈیا ادارہ ہے جس کے مخاطب عوام ہیں۔ وہ عوام جو امامؒ کی فکر کی بنیاد پر ہمارے ولی نعمت ہیں اور جن کے بارے میں امامؒ نے فرمایا: ’’میزان، رأیِ ملت است‘‘، یعنی ’’معیار عوام کی رائے ہے۔‘‘ یہ امامؒ کے اپنے الفاظ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامؒ کی فکر میں عوام محض ایک رسمی یا نمائشی حیثیت نہیں رکھتے۔ لہٰذا جماران کو اس ذمہ داری اور رسالت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ میرے خیال میں نئے دور میں آپ کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو امامؒ کی فکر کو سمجھتے ہوں اور خطِ امام کے وفادار ہوں۔


انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں امامؒ کی فکر پر تنقید کے حوالے سے کہا: اگر تنقید سے مراد اجتہاد اور علمی غور و فکر ہو تو یہ اچھی بات ہے۔ البتہ یہ کام کسی ایسے شخص کو انجام دینا چاہیے جو صاحبِ نظر اور صاحبِ علم ہو؛ یعنی یہ بہت اہم ہے کہ تنقید کون کر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تنقید کو محض عیب نکالنے کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ غیر ماہر اور غیر علمی تنقید کے اپنے نقصانات اور آفات ہیں۔


اس تقریب میں مؤسسۂ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے ثقافتی و فنی امور کے معاون جہانگیر قاسمی، انسانی وسائل و ترقی کے معاون مرتضیٰ عمرانی اور ادارے کے میڈیا کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مؤسسۂ مطبوعاتی جماران کے مدیرِ عامل روزبہ علمداری اور خبررساں ادارے جماران کے مدیرِ تحریر محمد سمیع پور نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جماران کی سرگرمیوں، بالخصوص چالیس روزہ جنگ کے دوران انجام پانے والی سرگرمیوں اور کارکردگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔