سید حسن خمینی نے کہا:
جنگ کے دوران حکومت کی کامیابیوں کو نظر انداز کرنا اور انہیں تسلیم نہ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔ ہم اس ناانصافی پر مبنی جنگ سے سربلند ہو کر نکلے، کیونکہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کا ورثہ نہایت شاندار اور عظیم ہے۔”
اس معروف عالمِ دین نے مزید کہا:
یقیناً تشہیری کوششیں منطقی اور معقول ہونی چاہئیں۔ تاہم، ایسی علامتیں کسی قوم کے عظیم ثقافتی ورثے کا حصہ ہوتی ہیں۔
جو قوم اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے، وہ لازماً اپنے مستقبل میں غلطیاں کرتی ہے۔ ہم اس ظالمانہ جنگ سے فخر اور سربلندی کے ساتھ کیوں نکلے؟ اس لیے کہ ہمارے پاس ایک عظیم تہذیب تھی۔
اول، ہمارے پاس ایک نہایت مضبوط حکومتی ڈھانچہ تھا۔ دوم، ہمارے پاس ایک مستحکم حکومت تھی جس کی بنیاد ایک صدی پر محیط تھی۔ سوم، ہمارے پاس ایک مضبوط انتظامی اور نظریاتی نظام تھا۔ اور چہارم، ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ وسیع اور گہری ہے۔”
جماران حسینیہ میں منعقد ہونے والی ملاقات کے دوران آیت اللہ حسن خمینی نے الموت کمپلیکس کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں کامیابی سے شامل کروانے میں کردار ادا کرنے والے افراد کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا:
مجھے امید ہے کہ ہمارے سامنے بہتر دن ہوں گے۔ کسی تاریخی مقام کو عالمی ورثے میں شامل کرنا صرف آغاز ہے۔ اب اس کی حفاظت، دیکھ بھال، ترقی اور اس کے اردگرد سیاحتی سہولیات اور مواقع پیدا کرنا وہ مسائل ہیں جن پر ہمیں توجہ دینی ہوگی۔
سورۂ شعراء کی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
جب حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی تو انہوں نے کہا: ‘اور بعد میں آنے والی نسلوں میں میرے لیے نیک نامی باقی رکھ۔’
لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ، جو انبیاء، موحدین اور عرفاء کے بزرگ اور پیشوا ہیں، اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے یہ کیوں چاہتے تھے کہ آنے والی نسلوں میں ان کا نام باقی رہے؟ ایک عارف یہ کیوں چاہے گا کہ مستقبل میں اسے یاد رکھا جائے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ جانتے تھے کہ بعض لوگ علامت اور نشان بن جاتے ہیں۔ اور جب وہ علامت بن جاتے ہیں تو ان کی بقا دراصل ایک تہذیب کی بقا بن جاتی ہے۔”
آیت اللہ سید حسن خمینی نے زور دیتے ہوئے کہا:
جو قوم اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے، وہ مستقبل کی طرف غلطی اور گمراہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ ہم اس ناانصافی پر مبنی جنگ سے سربلند ہو کر کیوں نکلے؟ اس لیے کہ ہمارے پاس ایک تہذیب تھی۔
یقیناً ہمارے پاس ایک نہایت مضبوط حکومتی ڈھانچہ بھی تھا۔ ہمارے پاس ایک مضبوط، مستحکم اور تقریباً سو سال پرانی حکومتی بنیاد موجود تھی۔ ہمارے پاس ایک نہایت مضبوط انتظامی نظام اور ایک بہت مضبوط نظریاتی نظام بھی تھا۔ اور تیسری بات یہ کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ بہت عظیم ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
ایسی عظیم تاریخ رکھنے والی قوم کے لیے ماضی سے حال تک پہنچنے والی یہ نام، پرچم اور علامتیں نہایت اہم ہیں۔ اگر آپ انہیں بھول جائیں تو درحقیقت آپ نے اپنی شناخت کو بھلا دیا ہے۔
کسی قوم کا ثقافتی ورثہ محض اس کا ماضی نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس کے مستقبل کے لیے چراغِ راہ ہوتا ہے۔ ہمارے پیچھے ڈھائی ہزار سال کی تاریخ ہے۔ ہم ایک تہذیب سے آئے ہیں۔
لیکن ہم نے اس کی غلطیوں سے سیکھا ہے اور ہمیں اس کی خوبیوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ جو انسان غلطی نہیں کرتا، وہ انسان نہیں ہے۔”
امام کے پوتے نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہمارے پیشروؤں کا ورثہ ہی ہماری شناخت تشکیل دیتا ہے”، کہا:
ہم سب کہتے ہیں کہ امام کا نام انقلاب کی سب سے اہم علامت کے طور پر باقی رہنا چاہیے۔
اللہ ہمارے محبوب شہید رہبر پر رحمت فرمائے۔ جب اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا قومی ترانہ تیار کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ‘اس میں امام کا نام شامل کریں۔’
کیوں؟ کیونکہ یہ نام ایک چراغِ راہ ہے۔ اس نام سے خود امام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، لیکن یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔
یقیناً اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی تشہیر منطقی اور معقول ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامتیں کسی قوم کا عظیم ثقافتی ورثہ ہوتی ہیں۔”