تحریر: سید وجیہہ حیدر
ہم نے آپ (عج) کے انتظار کا حق ادا نہیں کیا۔ اے حجت خدا ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنے مگن ہوگئے کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ ایک فرزند غریب زہراء سلام اللہ علیہا پردہ غیبت میں رو رہا ہے۔ آپ (عج) کو تو اس مالک حقیقی پروردگار عالم نے اس ارض پر ہمارے اوپر حجت قرار دیا ہے، یعنی آپ (عج) تو ہماری جانوں، ہمارے مال، ہماری اولادوں سے بڑھ کر ہم پر حق رکھتے ہیں۔ یابن الحسن (عج) آپ (عج) کے بابرکت وجود کی بدولت ہی تو ہم اس ارض پر زندگی بسر کر رہے ہے، کیونکہ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔ مولا (عج) نہ ہم وہ عمل بجا لا سکے کہ آپ (عج) کی خوشنودی حاصل ہو، نہ وہ گفتگو کرسکے کہ آپ (عج) کی شان بیان ہو، نہ اپنی زبانوں کو تند کلامی سے بچا سکے، نہ خود کو اس منافقیت کے دور سے بچا سکے، نہ ہم خدا کی اتنی بڑی برکت اور نعمت سے صحیح معنوں میں مستفید ہوسکے۔
نہ اپنے دل کو پاک کیا، نہ اپنے کردار کو بدلا، نہ آپ (عج) کے لشکر میں شامل ہونے کے لیے کوئی کار خیر انجام دیا۔ نہ ہی حقیقی طور پر ایک منتظر کی طرح آپکار انتظار کیا، جیسے ایک بچہ اپنی ماں کا کرتا ہے، جیسے روزگار روزی کا کرتا ہے، جیسے امیدوار اپنی لگائی گئی آس کا کرتا ہے تو میں کیسے خود کو آپ (عج) کا منتظر کہوں۔؟ اے مولا (عج) آپ (عج) تو گلشن زہراء سلام اللہ علیہا کا وہ پھول ہیں کہ جو حق و باطل کو جدا کرے گا اور مظلوموں کی فریاد ہیں آپ (عج)۔ نہ مولا (عج) ہم اس پھول کی خاطر خود کو مالی بنا پائے۔ نہ اس کے مشن کی حفاظت کی خاطر خود کو معمور کر پائے۔ آپ (عج) کا وجود مبارک تو ہمیشہ اس زمین پر موجود ہے وائے ہو میری بدقسمتی پر کہ میں آپ (عج) کی زیارت، آپ (عج) کے دیدار، آپ (عج) کے چہرے کو دیکھنے سے قاصر ہوں۔
مولا (عج) میری آنکھیں پاک نہیں، میرا دل پاک نہیں۔۔۔ میرا عمل پاک نہیں۔۔ پھر بھی "میں کہتا ہوں میں آپ (عج) کا ہوں" کیونکہ آپ (عج) باپ کی طرح ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے ہیں۔ آپ (عج) ہماری داد و فریاد کو ہمارے رب کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں اور آپ (عج) وہ وسیلہ ہیں، جیسے ایک صحرا کی تپتی دھوپ میں ایک جام آب کہ جو زندگی بچانے کا کام کرے۔ یہ سوچ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ میرے پاس وہ آنکھیں نہیں، جن سے میں آپ (عج) کو دیکھ سکو، میرے پاس کچھ بھی نہیں مولا (عج)، گر آپ (عج) ہم سے جدا ہیں تو گویا یہ دل دل نہیں۔ مولا (عج) جیسے آپ (عج) ہمارے لیے دعا کرتے ہیں، ہم ویسے رب عظیم سے آپ (عج) کے ظہور کی دعا نہ کرسکے۔ مولا (عج) جیسے آپکا دل ہمارے لیے بے تاب ہے کہ ہم راہ ہدایت پر چلیں اور تاریکیوں کو چھوڑ دیں، کاش ایسے ہمارا دل بھی آپ (عج) کے فراغ میں دن رات آنسو بہائے۔
مولا (عج) پروردگار کریم سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی وہ توفیق پروردگار دے کہ ہماری سانسیں آپ (عج) کے ظہور کی دعا کی تسبیح بن جائے۔ مولا (عج) مجھ میں اتنی توانائی نہیں کہ خود کو گناہوں سے محفوظ رکھ سکوں، آپ (عج) پروردگار کریم سے ہمارے لیے دعا کریں، کیونکہ آپ (عج) کی دعا ہماری دعا سے کہیں افضل ہے کہ وہ ہمیں اس راہ پر گامزن کرے، جہاں ہماری ملاقات ہمارے امام وقت سے ہو جائے۔ اے یوسف علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام سے ملانے والے پروردگار، ہمیں اپنی حجت، وقت کی امام (عج) کا دیدار نصیب کر۔ اے مالک ان اندھی آنکھوں کو نور یوسف زہراء سلام اللہ علیہا سے صحت یاب کر، ان قلبوں اور ان بے قرار دلوں کو نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نورانی بنا ان قلبوں کو راحت عطا کر۔
اے مالک ان جسموں کو حق کی نصرت کے لئے آمادہ ہونے والا بنا۔ اے پروردگار، اے رب یکتا، ان کانوں کو فرزند زہراء سلام اللہ علیہا کے بیان دلنشین سے وہ قوت عطا کر کہ یہ ہمیشہ حق کو سنیں۔ ان سروں کو وہ مرتبہ عطا کر کہ یہ شھادت کی اس منزل پر پہنچ جائیں، جہاں اپنے امام (عج) کی بارگاہ میں یہ سر با ہمراہ بدن شرمندگی سے جھکا ہوا نہ ہوا بلکہ حسین ابن علی (ع) کی طرح راہ حق پر تن سے جدا ہوگیا ہو۔ اے ہماری جانوں پر ہم سے بھی زیادہ قوت رکھنے والے، ہمیں اس لشکر میں شامل کر کہ جو باطل کو جڑوں سے اکھاڑ دے گا۔ اے پروردگار عظیم اس ارض کی حجت اور اپنے ولی امام عصر (عج) کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کی دعاؤں میں شامل فرما اور راہ حق نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین بحق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وآلہ طیبین الطاہرین۔