پرشکوہ تشییعِ جنازہ، 6 روزہ عالمی اجتماع کے عالمِ اسلام پر اثرات

احساسات و جذبات پر اثرات، غم سے حماسہ تک

ID: 86293 | Date: 2026/07/06

تحریر: سجاد حسین آھیر


 


"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آل عمران 169) رہبرِ شہید کی شہادت کے بعد 6 روزہ مراسم، 100 سے زائد ممالک کے وفود، کروڑوں کا اجتماع، تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں لاکھوں کا سمندر۔۔۔۔ یہ صرف جنازہ نہیں، ایک "تجدیدِ بیعت" ہے۔ اس کے اثرات نسلوں تک جائیں گے۔


 


1۔ احساسات و جذبات پر اثرات، غم سے حماسہ تک


الف) اجتماعی سوگ، اجتماعی بیداری


جب کروڑوں لوگ ایک ساتھ "وَا سَیِّدَاہ" کہیں گے، تو انفرادی غم "امت کا شعور" بن جائے گا۔ آنسو دل کو نرم کرتے ہیں اور نرم دل حق قبول کرتا ہے۔ یہ 6 دن پوری امت کے لیے "مجلسِ عزا" بن جائیں گے۔


ب) محبت کا اظہار، وفا کا اعلان


تہران سے کربلا تک "لَبَّيْكَ يَا خَامِنَہ ای" کی صدائیں بتائیں گی کہ رہبر صرف ایران کا نہیں، امت کا تھا۔ یہ محبت "شخصیت پرستی" نہیں، "راستے سے وابستگی" ہے۔ نتیجہ: لوگ کہیں گے "ہم تنہا نہیں، ایک قافلہ ہیں۔"


ج) دشمن سے برأت، نفرت کا اعلان


جب کروڑوں ایک ساتھ "مرگ بر امریکا، مرگ بر اسرائیل" کہیں گے، تو یہ نعرہ نہیں رہے گا، "نفسیاتی دیوار" بن جائے گا۔ بچے کے ذہن میں بیٹھ جائے گا: "قاتل کون ہے، دوست کون ہے۔" یہ برأت نسلوں کو منتقل ہوگی۔


 


2۔ نفسیات پر اثرات، مایوسی سے عزم تک


الف) "ہم کرسکتے ہیں" کا یقین


100 ممالک کے وفود، علماء، مزاحمتی لیڈر، عیسائی پادری، سنی مفتی، سب ایک صف میں۔ عام مسلمان سوچے گا: "ہم بکھرے نہیں، متحد ہیں" یہ منظر "کمتری" کا احساس ختم کر دے گا۔


ب) خوف کی دیوار گر جائے گی


دشمن نے میزائل مار کر ڈرانا چاہا۔ امت نے جنازے پر کروڑوں لا کر جواب دیا: "ہم مرنے سے نہیں ڈرتے۔" جب موت محبوب بن جائے تو سامراج کا سب سے بڑا ہتھیار بے اثر ہو جاتا ہے۔ نوجوان کے دل سے "امریکہ کا خوف" نکل جائے گا۔


ج) شہادت کلچر بن جائے گی


6 دن تک ہر چینل، ہر منبر، ہر گھر میں ایک ہی ذکر: "شہید زندہ ہے۔" بچہ پوچھے گا "شہید کیا ہوتا ہے؟" ماں کہے گی "جو حسینؑ جیسا مرتا ہے۔" نتیجہ: اگلی نسل کے لیے "کامیابی" کا مطلب بدل جائے گا۔ ڈگری نہیں، شہادت۔


 


3۔ نظریات پر اثرات، تذبذب سے یقین تک


الف) "ولایت فقیہ" عالمی نظریہ بن جائے گی


نجف اور قم میں لاکھوں کا مجمع، ساتھ میں حزب اللہ، حشدالشعبی، انصار اللہ، حماس کے پرچم۔ دنیا دیکھے گی: "یہ صرف ایران کا نظام نہیں، یہ کربلا کا تسلسل ہے۔" سنی، شیعہ، صوفی، سب کہیں گے: "ظالم کے مقابل ولی چاہیئے"


ب) "مزاحمت" واحد راستہ تسلیم ہوگی


مذاکرات، معاہدے، نارملائزیشن۔۔۔۔ سب کی قبر اس جنازے میں کھد جائے گی۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ رہبر نے جھک کر نہیں، لڑ کر عزت کمائی تو نوجوان پوچھے گا: "سمجھوتے سے کیا ملا؟" جواب آئے گا: "ذلت" نتیجہ: "مقاومت" امت کا اجتماعی عقیدہ بن جائے گا۔


ج) "تشیع سیاسی" کا خوف ختم ہوگا


100 ملکوں کے سنی وفود جب "یاحسینؑ" کہیں گے، تو وہابی بیانیہ دفن ہو جائے گا۔ دنیا جان لے گی: "تشیع، علیؑ کی محبت + ظلم سے نفرت کا نام ہے۔" فرقہ واریت کا زہر کمزور پڑے گا۔


 


4۔ کردار پر اثرات، تماشائی سے مجاہد تک


الف) نئی نسل کی تربیت


جو بچہ باپ کے کندھے پر بیٹھ کر نعرہ لگائے گا، وہ 20 سال بعد کمانڈر بنے گا۔ 6 دن کا یہ اجتماع "یونیورسٹی" ہے۔ نصاب: صبر، بصیرت، استقامت، شہادت۔


ب) عملی میدان میں حرکت


جذبہ جب عروج پر ہو تو "عمل" جنم لیتا ہے۔ عراق میں حشد کے کیمپ بھریں گے۔ لبنان میں نوجوان اسلحہ اٹھائے گا۔ یمن میں بچے "خامنہ ای" کے نام پر دستے بنائیں گے۔ پاکستان، ہندوستان، نائجیریا میں "محبِ شہید" تنظیمیں اٹھیں گی۔


ج) سیاسی صف بندی بدلے گی


جو حکمران خاموش رہے گا، عوام اسے مسترد کر دے گی۔ جو امریکہ کی طرف دیکھے گا، سڑک پر نعرہ سنے گا: "شہید کا راستہ، نہ کہ واشنگٹن کا۔" اگلے 10 سال میں خطے کا سیاسی نقشہ بدلے گا۔


 


5۔ دشمن پر اثرات، تکبر سے وحشت تک


الف) نفسیاتی شکست


دشمن نے سمجھا "سر کاٹ دو، جسم گر جائے گا۔" جب کروڑوں کا جسم اٹھے گا، واشنگٹن، تل ابیب کے ایوان لرز جائیں گے۔ انہیں سمجھ آجائے گی: "ہم نے شخص نہیں، مکتب کو زندہ کر دیا۔"


ب) سافٹ پاور کی موت


ہالی ووڈ، نیٹ فلکس، فیشن۔۔۔۔ 6 دن کی یہ فٹج سب پر بھاری پڑے گی۔ دنیا پوچھے گی: "یہ کس کے لیے رو رہے ہیں؟" جواب آئے گا: "ایک درویش کے لیے، جس کے پاس محل نہ تھا۔" مادیت کا بت ٹوٹے گا۔