تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
شہید امت اسلامیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں عوام کی غیر معمولی اور تاریخی شرکت نے وفاداری، محبت اور عقیدت کی ایک منفرد مثال قائم کی۔ دسیوں لاکھوں سوگوار اشک بار آنکھوں کے ساتھ نماز جنازہ میں شریک ہوئے، جہاں ہر طرف غم، دعا اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوان اپنے محبوب رہبر کو الوداع کہنے کے لیے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ فضا تکبیر، درود، دعا اور آنسوؤں سے معمور تھی، جبکہ شرکاء نے شہید رہبر کے مشن سے وفاداری اور اس کے تسلسل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائيل کے نعرے لگائے۔ رہبر شہید کی نماز جنازہ عوام کی بے مثال شرکت، اشک بار آنکھیں اور وفاداری کے لازوال مناظر سے پر تھی۔
شرکاء میں مرد، خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے سبھی شامل تھے۔ بہت سے افراد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔ متعدد شرکاء کا کہنا تھا کہ رہبر شہید نے اپنی پوری زندگی اسلام، امت مسلمہ اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کیے رکھی، اسی لیے ان کی جدائی ہر دل کو غمزدہ کر گئی ہے۔ نماز جنازہ کے دوران جہاں شرکاء کی ایک بڑی تعداد زارو قطار گریہ کر رہی تھی، وہاں نماز کے بعد اور پہلے مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل اور انتقام انتقام کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ عوام نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ رہبر شہید کے افکار، اصولوں اور مزاحمت کے پیغام کو زندہ رکھیں گے۔ کئی افراد نے کہا کہ اگرچہ رہبر شہید جسمانی طور پر ان کے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی فکر، رہنمائی اور جدوجہد ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
نماز جنازہ کا منظر اتحاد، یکجہتی، عقیدت اور قومی عزم کی ایک ایسی تصویر بن گیا، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ لاکھوں سوگواروں کی خاموش آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ رہبر شہید اپنے عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ تہران اور اسکے گردونواح سے لاکھوں عقیدت مند صبح سے مصلیٰ امام خمینی میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے، جبکہ عوام کی ایک بڑی تعداد رات بھر مصلیٰ میں موجود رہی اور قرآن، عزاداری اور دعا و مناجات میں مصروف رہے۔ نماز جنازہ میں شریک افراد کے لئے رہائش سمیت دیگر انتظامات وسیح سطح پر کئے کئے تھے۔ تہران کی اہم شاہراوں پر پانی، شربت اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرنے کے لئے موکب اور سبیلین لگائی گئی تھیں۔ شہر بھر کی سڑکوں بالخصوص مصلیٰ امام خمینی کی طرف جانے والی سڑکوں پر سر ہی سر نظر آرہے تھے، جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین سب شامل تھے۔
نماز جنازہ کی امامت ایران کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے کی۔ اس موقع پر رہبر شہید کے تینوں فرزند، اعلیٰ حکومتی عہدیدار، مسلح افواج کے کمانڈرز، ملکی و غیر ملکی شخصیات اور دسیوں لاکھ عوام شریک ہوئے۔ نمازِ جنازہ تین مرحلوں میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں شہیدہ سیدہ بشریٰ حسینی خامنہ ای، شہید ڈاکٹر مصباح الہدیٰ باقری اور شہیدہ زہراء حداد عادل، جبکہ تیسرے مرحلے میں رہبر شہید کی نواسی شہیدہ زہراء محمدی گلپایگانی کے جنازے کی نماز ادا کی گئی۔ عوام نے اپنے رہبر کو آخری الوداع میں کہا کہ ہم آپکے راستے پر چلنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے اپنے والد کو کھو دیا ہے۔"
یہ جملہ ان سوگواروں میں سے ایک کا پہلا ردعمل ہے، جو "رہبر شہید کے جسد خاکی کو الوداع کرنے کے بعد مصلیٰ امام خمینی (رح) سے باہر نکل رہا تھا۔ جنازے میں شریک ایک اور شخص آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کہتا ہے: "شاید مزید سو سال گزر جانے کے بعد بھی تاریخ گواہی دے گی کہ وہ ایران کے سب سے زیادہ ایرانی رہنماء تھے اور انہوں نے اپنے پیچھے عزت اور غرور کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔" ایک اور سوگوار اپنی زندگی پر شہید رہبر کی شخصیت اور ان کے افکار و نظریات کے اثرات کے بارے میں بتاتا ہے۔ میرا دین ایمان رہبر کی تعلیمات کی بنیاد پر استوار ہوا۔ مجمع میں سے ایک نوجوان جو وضو کرکے الوداع کے لئے آیا تھا، دشمنوں سے کہتا ہے: "یہ بات دشمن سے کہہ دو، اس رہبر کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا اور ہمیں امید ہے کہ ایک دن ہمارے شہید قائد کے خون کا بدلہ اس جرم کے مرتکب افراد سے لیا جائے گا۔"