ہمارے عظیم شہید رہبر کے بقول، امامؒ کا سب سے بڑا سرمایہ ’’خدا پر حسنِ ظن‘‘ تھا؛ آیت اللہ سید حسن خمینی

یادگارِ امام نے واضح کیا کہ خدا پر حسنِ ظن انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اور صبر کی اصل روح ہے

ID: 86161 | Date: 2026/06/27

یادگارِ امام، آیت اللہ سید حسن خمینی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امام خمینیؒ ہمیشہ خدا پر حسنِ ظن رکھتے تھے، کہا کہ حضرت سید الشہداءؑ کبھی شکوہ زبان پر نہیں لاتے، کیونکہ انہیں اپنے پروردگار پر کامل اعتماد اور حسنِ ظن حاصل ہے۔ قرآن کریم کے بیان کے مطابق بعض اوقات حالات اس قدر دشوار ہو جاتے ہیں کہ انبیائے کرامؑ بھی ظاہری طور پر مایوسی کے مرحلے تک پہنچ جاتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے۔ یہ کیفیت بعض انبیاءؑ کی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے، لیکن حضرت سید الشہداءؑ کی ذات میں اس کی جگہ امید، عزت اور خدا پر کامل اعتماد جلوہ گر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری داستان بھی دراصل خدا پر اعتماد اور حسنِ ظن کی داستان ہے، اور ہمارے عظیم شہید رہبر کے بقول، امام خمینیؒ کا سب سے بڑا سرمایہ یہی تھا۔


آیت اللہ سید حسن خمینی نے کتاب «اسرار التوحید» میں مذکور ابو سعید ابو الخیر کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اپنی زندگی میں کوئی حقیقی سرمایہ حاصل کرنا چاہے تو وہ اپنے رب پر حسنِ ظن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیکی صرف سجدے میں سر رکھ دینے کا نام نہیں، اگرچہ عبادت اپنی جگہ بڑی فضیلت رکھتی ہے، بلکہ اصل خوبی صبر ہے، اور صبر کی بنیاد خدا پر حسنِ ظن ہے۔ اگر انسان اپنے رب پر اعتماد نہ رکھے تو وہ بے صبری اور اضطراب (جزع) کا شکار ہو جاتا ہے۔ صبر کی ضد جزع ہے، اور انسان اس لیے صبر کرتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس صبر کا ایک بہتر اور نیک انجام سامنے آئے گا۔


انہوں نے مزید کہا کہ جب آزمائشیں اور خطرات انسان کو گھیر لیتے ہیں تو صابر وہ ہوتے ہیں جو ایسے نازک لمحات میں خدا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی لمحوں میں، شدید غم کے باوجود دل کے اندر ایک خاص طمانیت اور سرور بھی پیدا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک تضاد معلوم ہوتا ہے کہ انسان غمگین بھی ہو اور باطنی سکون بھی محسوس کرے۔ انہوں نے ابنِ عربی کے ایک نہایت بلند عرفانی قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: "اگر تم اجتماعِ نقیضین کو ممکن نہ سمجھو تو تم عارف نہیں ہو۔" انہوں نے کہا کہ یہ تعبیر فارسی ادب اور اسلامی عرفان کی بلند ترین تعبیرات میں سے ایک ہے۔


یادگارِ امام نے واضح کیا کہ خدا پر حسنِ ظن انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اور صبر کی اصل روح ہے۔ انسان اس لیے صبر کرتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ صبر کے بعد کامیابی ضرور حاصل ہوگی؛ یعنی وہ آنے والی کامیابی کے بارے میں خدا پر حسنِ ظن رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے عظیم شہید رہبر سے بارہا یہ جملہ سنا کہ "امام خدا پر حسنِ ظن رکھتے تھے۔" جب انسان اپنے پروردگار پر کامل اعتماد رکھتا ہے تو شدید ترین مشکلات بھی اسے صبر سے محروم نہیں کر سکتیں۔


آیت اللہ سید حسن خمینی نے مزید کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ملتِ ایران اور اس کے معزز ذمہ داران نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ البتہ صبر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے یا غم میں ڈوب جائے۔ اسلامی تعلیمات میں صبر کی متعدد اقسام بیان کی گئی ہیں، جن میں ایک فعال صبر بھی ہے؛ یعنی انسان میدانِ عمل میں موجود رہتے ہوئے، مسلسل جدوجہد کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رکھے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا پر حسنِ ظن رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملتِ ایران کی عظیم کامیابی اسی فعال صبر کا نتیجہ ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ اسفند کی نویں اور دسویں تاریخ کے وہ دن ایسے تھے جب گویا آسمان زمین پر تنگ ہو گیا تھا اور ہر طرف سے مصائب کے دروازے کھل گئے تھے، لیکن خدا پر یہی حسنِ ظن تھا جس نے عوام کے دلوں میں اس عظیم کامیابی کے بیج بوئے۔ انہوں نے کہا کہ خدا پر حسنِ ظن کی بلند ترین مثال واقعۂ عاشورا میں نظر آتی ہے۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا یہ تاریخی جملہ «ما رأیتُ إلا جمیلاً» اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہی خدا پر حسنِ ظن انسان کو صبر عطا کرتا ہے اور مستقبل کی کامیابی کو حال ہی میں محسوس کرنے کی قوت دیتا ہے۔ عاشورا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وہاں کا صبر کسی کمزوری یا بے بسی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ خدا پر غیر متزلزل اعتماد اور حسنِ ظن کا مظہر تھا۔


یادگارِ امام نے ایک بار پھر کہا کہ حضرت سید الشہداءؑ نے کبھی شکوہ زبان پر نہیں لایا، کیونکہ وہ خدا پر حسنِ ظن رکھتے تھے۔ قرآن کریم کے مطابق بعض اوقات حالات اس قدر دشوار ہو جاتے ہیں کہ انبیائے کرامؑ بھی ظاہری طور پر مایوسی کے مرحلے تک پہنچ جاتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے۔ یہ کیفیت بعض انبیاءؑ میں دیکھی جا سکتی ہے، لیکن حضرت سید الشہداءؑ کی سیرت امید، عزت اور خدا پر کامل اعتماد سے عبارت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری داستان بھی خدا پر اعتماد اور حسنِ ظن کی داستان ہے، اور ہمارے عظیم شہید رہبر کے مطابق امام خمینیؒ کا سب سے بڑا سرمایہ یہی تھا۔


انہوں نے تصریح کی کہ امام خمینیؒ نے اپنی جدوجہد کے ابتدائی ایام میں، گرفتاری کے وقت، نجف کے سخت ترین حالات میں اور پھر کامیابی و اقتدار کے عروج پر بھی ہر حال میں خدا پر حسنِ ظن برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس عظیم سرمایہ کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھنا چاہیے، کیونکہ اسی روحانی سرمایہ کے سہارے ہم اس جنگ کے دشوار مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرے ہیں۔


آیت اللہ سید حسن خمینی نے حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں اس واقعے کا کوئی واضح افق دکھائی نہیں دیتا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا خوف حقیقت سے کہیں زیادہ تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سی قوت تھی جس کے باعث، رہبرِ انقلاب کے بقول، پوری ملت میدان میں اٹھ کھڑی ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ قوت امید، خدا پر حسنِ ظن اور اعتماد تھی، جو عوام کے دلوں میں پروان چڑھی، اور اسی امید پر ثابت قدم رہنے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلیں اس واقعے پر بہت کچھ لکھیں گی اور ان شاء اللہ اس سے عظیم نتائج حاصل ہوں گے۔