امام خمینی کے کس فرمان نے جنگ کا رخ بدل دیا

جب عراق نے عالمی طاقتوں کی پشت پناہی میں ایران پر حملہ کیا، تو امام خمینی(س) نےاللہ پر توکل اور ایمان کی بنیاد پر قوم کو مزاحمت اور دفاع کے لیے بلایا۔

ID: 85518 | Date: 2026/04/01

امام خمینی کے کس فرمانا جنگ کا رخ بدل دیا


امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، جب عراق نے عالمی طاقتوں کی پشت پناہی میں ایران پر حملہ کیا، تو امام خمینی(س) نےاللہ پر توکل اور ایمان کی بنیاد پر قوم کو مزاحمت اور دفاع کے لیے بلایا۔ اگرچہ امام خمینی نہ فوجی تھے اور نہ جنگجو، لیکن ان کو ایمان، عرفان اور عاشورائی تعلیمات نے ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے کی ہمت دی: اور انہوں نے ایک حکم جاری کیا جس میں فرمایا تھا کہ آبادان کے محاصرے کو توڑنا ضروری ہے۔


اسی فرمان نے میدان جنگ کی صورتحال کو بدل دیا، بلکہ ایرانی عوام میں نئی روح پھونکی۔ امام کے اس اقدام سے عوام اور فوج، ایک مقصد کے تحت متحد ہو گئے اور دفاعی محاذ پر بھرپور جدوجہد شروع ہوئی۔


امام خمینی کے حامی اور وفادار شاگردوں کی قیادت میں عوام نے دشمن کے مقابلے میں ہمت اور استقامت دکھائی۔ فوج اور پاسداران انقلاب نے کم وسائل کے باوجود دشمن کے منصوبے ناکام بنائے اور خرمشہر کو آزاد کر کے عراق کے لیے اہم سیاسی اور فوجی برتری چھین لی۔


امام خمینی نے عوام کو تاریخی اور دینی حوالوں سے ایستادگی اور قربانی کے جذبے سے جوڑا۔  کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا" کے ذریعے دشمن کو یزیدی اور ایرانی عوام کو حسینی لشکرکے طور پر پیش کیا جس سے محاذ پر نہ صرف ہمت بڑھتی بلکہ قربانی اور استقلال کا جذبہ بھی پروان چڑھا۔


امام خمینی کا نظریہ صرف مادی یا فوجی میدان تک محدود نہیں تھا؛ وہ ایک ایسے  عارف تھے جس میں انسان اپنی محدودیت سے باہر نکل کر ایک روحانی اور ابداعی دنیا کی طرف بڑھتا ہے۔ ان کی رہنمائی نے ایرانی عوام کو یہ باور کرایا کہ تنہا دفاع نہیں بلکہ ایستادگی اور قربانی ہی نجات کا راستہ ہے۔