امریکہ میں انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کی پہلی برسی کے موقع پر بغداد اور عراق کے بعض دیگرشہروں میں عوامی اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہداء کی تعظيم اور تکریم کرنے پر میں عراقی اور ایرانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں

ID: 67641 | Date: 2021/01/08


امریکہ میں انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کی پہلی برسی کے موقع پر بغداد اور عراق کے بعض دیگرشہروں میں عوامی اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہداء کی تعظيم اور تکریم کرنے پر میں عراقی اور ایرانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کی پہلی برسی کے موقع پر بغداد اور عراق کے بعض دیگرشہروں میں عوامی اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہداء کی تعظيم اور تکریم کرنے پر میں عراقی اور ایرانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی 19 دی کے قیام کی مناسبت سے ہر سال قم کے عوام سے حضوری ملاقات کرتے تھے لیکن اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے ديگر ملاقات کی طرح یہ ملاقات بھی منعقد نہ ہوسکی ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 19 دی کی مناسبت سے ٹی وی چینل پر براہ راست عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: قم کے عوام اور حوزہ علمیہ قم کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے میں قم کے عوام کے نورانی چہروں کو مشاہدہ نہیں کرسکا ، بہر حال زندگی کا یہ بھی ایک پہلو ہے زندگی میں اس قسم کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ قم کے عوام کا قیام در حقیقت امریکہ کے خلاف پہلا انقلابی قیام تھا۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک بھر میں شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس کی برسی کے موقع پر عوام نے ایک بار پھر روح کو تازہ کردیا اور شہداء کی تعظيم اور تکریم کرکے ان کی خدمات کو شاندار طریقہ سے خراج عقیدت پیش کیا۔ اسی طرح عراقی عوام نے بھی بغداد اور دیگر شہروں میں عظیم اجتماعات منعقد کرکے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا اور بغداد کا عظیم عوامی اجتماع در حقیقت امریکہ کی شکست اور ناکامی کا مظہر تھا۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کی موجودہ صورتحال کو امریکی تاریخ کی بدترین صورتحال قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ چاک ہوگیا ہے اور امریکی سیاہ فام شہریوں کے قتل عام سے امریکہ کے انسانی حقوق کا پردہ بھی فاش ہوگیا ہے۔ امریکہ میں ہر چند دنوں میں ایک امریکی سیاہ فام کو قتل کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بعض لوگ امریکہ کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جولوگ اس فکر میں ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد ملک بہشت بریں میں تبدیل ہوجائےگا انھیں امریکہ کے اتحادی ممالک کی صورتحال اور خود امریکہ کی صورتحال کا غور سے جائزہ لینا چاہیے امریکہ خود جہنم میں تبدیل ہوچکا ہے اور امریکہ میں انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک کو ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کردینا چاہیے البتہ وہ پابندیاں ختم کریں یا نہ کریں ، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت اور اقتصاد کو ملکی سطح پر اتنا مضبوط بنائیں تاکہ ان کی پابندیاں ناکام ہوجائیں ۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملکی اور قومی دفاع کے سلسلے میں کسی سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ملکی دفاع کے بارے میں ہم کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہمیں صدام معدوم کا دور یاد ہے جب تہران کوصدام معدوم مغربی ممالک کے میزائلوں اور جنگی طیاروں سے نشانہ بناتا تھا لیکن آج ہم اس سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ ہماری فضائی حدود میں امریکی ڈرون بھی اگر داخل ہوں گے، تو انھیں ایران کے تیار کردہ میزائلوں سے تباہ کردیا جائے گا اور ایرانی مسلح افواج اس سلسلے میں کئي امریکی ڈرونز کو اب تک تباہ کرچکی ہیں۔


رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں ملک میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور برطانیہ میں تیار کی گئی ویکسین قابل اعتماد نہیں اگر وہ اتنے ہی قابل تھے تو وہاں اتنی بڑی تعداد میں اموات کیسے ہوئی ہیں ہمیں فرانس کی ویکسین پر بھی اعتماد نہیں لہذا امریکہ اور برطانیہ کی ویکسین کی ملک میں درآمد بالکل ممنوع کی جاتی ہے۔