کیا شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ سکتی؟

یہودی ریاست کے ذرائع نے بنیامین نیتن یاہو کی شیخیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ “جب تک میں (یاہو) اپنے منصب پر قائم رہوں گا کبھی بھی شام میں ایرانی فورسز پر حملوں سے گریز نہیں کروں گا۔

ID: 57702 | Date: 2019/02/06

کیا شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ سکتی؟ 


یہودی ریاست کے ذرائع نے بنیامین نیتن یاہو کی شیخیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ “جب تک میں (یاہو) اپنے منصب پر قائم رہوں گا کبھی بھی شام میں ایرانی فورسز پر حملوں سے گریز نہیں کروں گا۔


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: روس نے یہودی ریاست کو متنبہ کیا ہے کہ شام میں اندھادھند اور کشیدگی پیدا کرنے والی کاروائیوں سے اجتناب کرے۔
یہودی ریاست نے حالیہ ناکام فضائی حملے کے بعد کہا ہے کہ نشانہ ایرانی فورسز تھیں۔
ادھر یہودی ریاست کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ “نامعلوم” ڈرون طیاروں نے ۱۹۴۸ع‍ کی مقبوضہ اراضی میں ایک فوجی اڈے کی تصویریں اتاری ہیں جس کی وجہ سے تل ابیب کو بری طرح تشویش لاحق ہوئی ہے۔
کیا ایران اور یہودی ریاست کے درمیان جنگ چھڑنے والی ہے؟ کیا شام پر حالیہ حملہ ایران کا رد عمل جانچنے کے لئے تھا؟
ماسکو نے مشرق وسطی میں تناؤ کم کرنے کے لئے تل ابیب کو خبردار کیا ہے کہ شام کے خلاف اپنی جارحیتوں کا سلسلہ بند کرے اور کہا ہے کہ شام پر اسرائیل کے اندھادھند حملے پورے خطے میں تناؤ کے اسباب فراہم کررہے ہیں۔ ماسکو نے یہ بھی کہا کہ شام کو مشرق وسطی کے جغ سیاسی کھاتے بےباق کرنے کے مرکز میں نہیں بدلنا چاہئے۔
ماسکو نے ایسے حال میں یہودی ریاست کی نئی جارحیت پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے، کہ یہودی ریاست کے ذرائع نے بھی دعوی کیا ہے کہ کئی انجانے ڈرون طیاروں نے اس ریاست کے ایک انتاہی اہم خفیہ فضائی اڈے کی تصویریں لی ہیں  ہیں جس کی وجہ سے تل ابیب کو شدید تشویش لاحق ہوئی ہے اور یہودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ان ڈرون طیاروں نے اسرائیل کے ایک دشمن ملک کے لئے جاسوسی کی کاروائی کی ہے۔
یہودی ریاست کے ذرائع نے بنیامین نیتن یاہو کی شیخیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ جب تک میں [یاہو] اپنے منصب پر قائم رہوں گا کبھی بھی شام میں ایرانی فورسز پر حملوں سے گریز نہیں کروں گا۔
ادھر قدس کور کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ: یہودی ریاست کے حملوں کا جواب دیا جائے گا تو اپریل سنہ ۲۰۱۹ع‍ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو ہار جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ شام میں کوئی بھی ایرانی فوجی اڈہ نہیں ہے اور شام میں ایران کی فوجی موجودگی مشاورت کی حد تک ہے۔
ادھر شام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ یہودی ریاست کی جارحیتوں کو روک لے اور عالمی ادارے کے طور پر ان حملوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرے۔
حکومت شام نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل کی جارحیت جاری رہے اور اقوام متحدہ رد عمل نہ دکھائے تو تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر آگ برسائی جائے گی۔
لیکن کیا ایران اور یہودی ریاست کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے؟
جواب: حال ہی میں جب یہودی ریاست نے غزہ پر حملہ کیا تو فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں نے تقریبا ۸۰۰ میزائلوں سے اس حملے کا جواب دیا، صرف ۴۸ گھنٹے بعد تل ابیب نے جنگ بندی کی درخواست کی اور غاصب ریاست کو جنک بندی میں ہی اپنی عافیت نظر آئی؛ فتنہ گر سعودی وزیر جنگ کو استعفا دینا پڑا، تو جو ریاست حماس اور جہاد اسلامی کے آگے ۴۸ گھنٹوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتی ہے، وہ کیونکر ایران کے خلاف لڑنے کی جرأت کرسکتی ہے؟ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح کہ جنرل سلیمانی کے بیان سے ظاہر ہے، شام پر نیتن یاہو کے حملے ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں، اور وقت آنے پر اس پر رد عمل دکھا کر ان کی اس مہم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔